رسائی کے لنکس

افغانستان الزامات سے پہلے حقائق کی تصدیق کرلے، پاکستانی دفتر خارجہ

  • یاسر منصوری

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ (فائل فوٹو)

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ (فائل فوٹو)

پاکستان نے طالبان بغاوت کی حمایت کے الزامات کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے افغانستان کو الزام تراشی سے قبل حقائق کی تصدیق کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حامد کرزئی پر قانلانہ حملے کی مبینہ سازش میں ملوث افراد کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی افغان کوشش کی مذمت بھی کی۔ ’’یہ ضروری ہے کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے پہلے حقائق کی تصدیق کی جائے۔‘‘

بدھ کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں افغان انٹیلی جنس ادارے کے ترجمان نے صدر کرزئی کو قتل کرنے کا منصوبہ ناکام بنانے کا انکشاف کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اس سازش میں ملوث جن چھ افراد کو گرفتار کیا گیا اُن میں بعض نے عسکری تربیت پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حاصل کی۔

اس سے قبل افغان حکومت یہ الزام بھی لگا چکی ہے کہ طالبان سے مفاہت کی کوششوں کے نگران اور سابق صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کے قتل کا منصوبہ بھی پاکستانی سرزمین پر تیار کیا گیا اور اُن پر خودکش حملہ کرنے والا شخص بھی پاکستانی شہری تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ اُن کا ملک ان الزامات کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے اور اس قتل کی تحقیقات میں افغان حکام سے ہر ممکن تعاون کی اپنی پیشکش پر قائم ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کا پختہ عزم کر رکھا ہے اور وہ مصالحتی عمل کی بھی حمایت کرتا ہے۔

پاکستان کی معاونت سے امریکہ اور عسکریت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے اراکین کے درمیان بات چیت کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان پر غور کرتے وقت افغانستان کی انتہائی پیچیدہ صورت حال کو مدد نظر رکھنا ضروری ہے۔ ترجمان نے اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی۔

اُنھوں نے صدر کرزئی کے حالیہ دورہ بھارت میں دونوں ملکوں کے مابین طے پانے والے معاہدے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یہ دونوں ملک خود مختار ہیں لیکن ایسے اقدامات کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہونا چاہیئے۔

مزید برآں ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی مارک گروسمن خطے کے دورے پر ہیں جس کے دوران وہ اسلام آباد کا دورہ بھی کریں گے تاہم اُنھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

XS
SM
MD
LG