رسائی کے لنکس

سرحد پار حملوں کے سدِباب کے لیے ’موثر اقدامات‘ کی توقع


وزارتِ خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان (فائل فوٹو)

وزارتِ خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان (فائل فوٹو)

وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کی مہلک کارروائیوں کو روکنے کے لیے پاکستان افغان حکومت اور نیٹو افواج سے مسلسل رابطے میں ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ مشرقی افغان صوبوں کُنڑ اور نورستان سے عسکریت پسندوں کے سرحد پار مہلک حملے ایک ’’انتہائی سنگین معاملہ‘‘ بن چکے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے اسلام آباد میں جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی اور شہری اہداف پر ہونے والے ان حملوں کو روکنے کے لیے پاکستان افغان حکومت اور نیٹو افواج سے مسلسل رابطے میں ہے۔

’’ہمیں (پاکستان کو) اُمید اور توقع ہے کہ افغان حکومت اور اتحادی افواج (پُر تشدد کارروائیوں کے) اس سلسلے کے سدِباب کے لیے موثر اقدامات کریں گے۔‘‘

افغان سرحد کی جانب سے مشتبہ عسکریت پسندوں کا تازہ ترین حملہ بدھ کو کرم ایجنسی میں ایک فوجی چوکی پر کیا گیا تھا جسے پاکستانی حکام کے بقول پسپا کر دیا گیا اور اس جھڑپ میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔

سرحد پار سے کیے جانے والے ان مبینہ حملوں کا ہدف بننے والے پاکستانی علاقوں میں باجوڑ ایجنسی، دیر اور چترال کے اضلاع شامل ہیں جن میں فوجی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 100 سے زائد سرحدی محافظ اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

افغان سرزمین سے تازہ سرحد پار حملہ بدھ کو کرم ایجنسی میں ہوا تھا۔ (فائل فوٹو)

افغان سرزمین سے تازہ سرحد پار حملہ بدھ کو کرم ایجنسی میں ہوا تھا۔ (فائل فوٹو)

ان حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کی طرف سے داغے جانے والے بعض گولے مبینہ طور پر افغان حدود میں عام شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنے ہیں جس پر کابل حکومت نے اسلام آباد سے باضابطہ احتجاج بھی کیا ہے، جب کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج نے بھی کرزئی حکومت کے الزامات کی تائید کرتے ہوئے سرحد پار سے کی گئی گولہ باری کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کی بری فوج نے افغان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پر جوابی کارروائی اُسی سمت میں کی جاتی ہے جہاں سے عسکریت پسند اُس کی تنصیبات پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور دیگر شعبوں میں حالیہ چند برسوں کے دوران تیزی سے بہتری آئی ہے، لیکن سرحدوں پر پائی جانے والی موجودہ کشیدگی اس پیش رفت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے کے لیے افغانستان اور پاکستان نے مستقبل قریب میں اپنے فوجی حکام کا ایک اجلاس جلال آباد میں بلانے کا فیصلہ بھی کیا ہے، تاہم کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG