رسائی کے لنکس

پاکستان بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے: کرزئی


صدر کرزئی اور وزیراعظم گیلانی (فائل فوٹو)

صدر کرزئی اور وزیراعظم گیلانی (فائل فوٹو)

دریں اثناء جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اُمید ظاہر کی ہے کہ پاکستان بون کانفرنس میں شرکت نا کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا۔ برلن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے فیصلوں کی وجوہات کو سمجھ سکتی ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ جرمنی اُسے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔

صدر حامد کرزئی نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں جرمنی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے پاکستان کے اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے درخواست کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

اسلام آباد میں جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق منگل کو ٹیلی فون پر رابطہ کر کے افغان صدر نے پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی حکومت اور عوام کی طرف سے نیٹو افواج کے حملے میں ہونے والی فوجی ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا۔

’’افغان صدر نے کہا کہ بون میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی عدم موجودگی اُن کوششوں کے لیے ہرگز مفید نہیں جن کا مقصد افغانستان میں امن کا قیام ہے۔‘‘

وزیر اعظم گیلانی نے افغان صدر کے ساتھ بات چیت میں اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ نیٹو افواج افغان سرزمین سے پاکستان کی سالمیت پر حملے کر رہی ہیں۔ ’’وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور فوجیوں کی شہادت نے پاکستانی عوام کو غضبناک کر دیا ہے۔‘‘

بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ ’’لیکن ایک ایسا ملک جس کی اپنی سالمیت اور علاقائی سلامتی کی خلاف ورزی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہو، وہ کیوں کر ایک تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے؟‘‘

پاکستانی وزیر اعظم نے افغان صدر کو بتایا کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ پاکستانی سرزمین پر سرحد پار سے حملے کیے گئے ہیں جن میں بیسیوں سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ’’انھوں نے کہا کہ وہ حملے بھی بین الاقوامی قوانین اور نیٹو کے اختیارات کی خلاف ورزی تھے۔‘‘

سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم گیلانی نے متنبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات اگر دوبارہ ہوتے ہیں تو اس کی وجہ سے ان کی حکومت کے لیے سیاسی طور پر معاملات کو حل کرنے کی راہیں یقینی طور پر محدود ہوں گی کیونکہ اس صورت میں پاکستان کی اپنی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

دریں اثناء جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اُمید ظاہر کی ہے کہ پاکستان بون کانفرنس میں شرکت نا کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا۔

برلن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے فیصلوں کی وجوہات کو سمجھ سکتی ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ جرمنی اُسے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔

’’اُنھیں (پاکستان کو) سمجھنا چاہیے کہ افغانستان کے بارے میں ہونے والی کانفرنس بہت اہم اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا ایک اچھا موقع ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG