رسائی کے لنکس

افغان دھڑوں کے مابین اتفاق رائے پر زور

  • یاسر منصوری

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط

پاکستان نے افغانستان میں سیاسی مصالحت کے عمل کی اہمیت کو دہراتے ہوئے طالبان سمیت تمام فریقین کو اسے جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعہ کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان مصالحت ایک ’’پیچیدہ‘‘ عمل ہے اس لیے اس میں اُتار چڑھاؤ خلاف توقع نہیں۔

افغان طالبان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ امن بات چیت کو معطل کرنے کے اعلان پر پاکستانی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین ’’صبر و تحمل، ثابت قدمی اور خلوص نیت‘‘ کے ساتھ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کی کوششیں جاری رکھیں۔

عبدالباسط کے بقول پاکستان افغانستان کی خودمختاری اور وہاں امن کے قیام کا خواہاں ہے کیوں کہ اس میں ملکی مفاد بھی پوشیدہ ہے۔

’’اس جذبے کے تحت پاکستان تمام افغان دھڑوں کے مابین اتفاق رائے کی حوصلہ افزائی کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ (افغانستان میں ایک عشرے سے جاری جنگ کا) پائیدار اور افغان عوام کی خواشات کے عین مطابق سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔‘‘

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے اس ہی اصولی موقف کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے افغان طالبان اور حزبِ اسلامی سمیت دیگر عسکری دھڑوں سے سیاسی مفاہمتی عمل کا حصہ بننے کی اپیل کی تھی۔

امریکہ اور اس کے اتحادی باور کرتے آئے ہیں کہ مسئلہ افغانستان کے حل میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے کیوں کہ ماضی میں طالبان قیادت سے دیرینہ وابستگی کی وجہ سے اسلام آباد بظاہر اُن پر تاحال خاصا اثر و رسوخ رکھتا ہے جسے جنگجوؤں کو سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

افغان طالبان نے جمعرات کو امریکہ کے ساتھ جاری مذاکراتی سلسلے کو یہ کہہ کر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا کہ سیاسی مفاہمت کے لیے امریکی حکام نے جو شرائط پیش کی ہیں ان میں افغان حکومت کے ساتھ بات چیت بھی شامل ہے جو اُن کے لیے قابل قبول نہیں۔

طالبان اور امریکی عہدیداروں کے درمیان بات چیت میں حالیہ ہفتوں میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی تھی۔ اب تک ہونے والے مذاکرات میں طرفین قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر قائم کرنے اور گوانتانامو بے میں امریکی قید خانے سے طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد اُن کی اس خلیجی ریاست کو منتقلی پر اتفاق کر چکے تھے۔

مبصرین کے خیال میں مذاکراتی عمل معطل کرنے کا طالبان کا فیصلہ، بگرام ایئربیس پر قرآن نذر آتش کرنے کا واقعہ اور ایک امریکی فوجی کی مبینہ فائرنگ سے 16 افغان شہریوں کی ہلاکت نے جہاں کابل اور واشنگٹن کے تعلقات کو مزید کشیدہ کیا ہے، وہیں 2014ء کے اختتام تک امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے منصوبے پر بروقت عمل درآمد کے بارے میں بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG