رسائی کے لنکس

سب سے زیادہ مہاجرین آج بھی پاکستان میں


اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 12 میں واقع اس کچی بستی میں 6,000 افراد مقیم ہیں۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 12 میں واقع اس کچی بستی میں 6,000 افراد مقیم ہیں۔

افغانستان پر روسی افواج کے حملے کے بعد 1979ء میں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ بے سروسامانی کی حالت میں آنے والے اکثر افغان پناہ گزین اب پاکستان میں ناصرف مختلف شعبوں میں محنت مزدوری کر رہے ہیں بلکہ بعض اپنا کاروبار بھی چلا رہے ہیں۔

پاکستان میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد خالصتاً اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقیم ہے جب کہ بعض نسبتاً خوشحال افغان شہری یہاں اپنے بچوں کی تعلیم اور دیگر معاشرتی سہولتوں کی دستیابی کے باعث وطن واپسی سے گریزاں ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اب بھی تقریباً 30 لاکھ افغان پناہ گزین آباد ہیں لیکن ان میں صرف 17 لاکھ کے کوائف حکومت پاکستان کے پاس موجود ہیں اور باقی افراد کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔

افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد صوبہ خیبر پختون خواہ اور صوبہ بلوچستان میں آباد ہے۔ لیکن صوبہ پنجاب کے بعض دیگر شہروں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں بھی افغانوں کی ایک بڑی بستی موجود ہے۔

افغان مہاجر گل آغا

افغان مہاجر گل آغا

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 12 میں واقع اس کچی بستی میں 6,000 افراد مقیم ہیں۔ یہاں آباد گل آغا کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندوز سے ہے اور وہ 1984ء میں پاکستان آئے تھے۔ وہ اپنے وطن میں قیام امن تک اہل خانہ کے ساتھ پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔

گل آغا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانوں کی ایک نسل پاکستان میں ہی پلی بڑھی اور اُن کے بقول وہ اپنے آبائی وطن افغانستان سے ”ناواقف“ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغانستان کی نسبت پاکستان میں وہ خود کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

افغان بستی کے رہائشی بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔

افغان بستی کے رہائشی بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔

تاہم گل آغا اور اس افغان بستی کے دیگر رہائشی اسلام آباد کی انتظامیہ سے بجلی، پانی اور ان جیسی دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔

وفاقی وزیر برائے سرحدی اْمور شوکت اللہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں تین دہائیوں سے موجود افغان پناہ گزینوں کے لیے بین الاقوامی برادری کی طرف سے ملنے والی امداد میں کمی کے باعث بھی حکومت کو ان لاکھوں افراد کی موزوں انداز میں دیکھ بھال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ تیزی سے شرح پیدائش میں اضافہ ہے۔ ”ان کی شرح پیدائش کافی زیادہ ہے، غیر سرکاری طور پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ 6.6 فیصد ہے جب کہ سرکاری طور پر یہ 4.4 فیصد ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔“

شوکت اللہ

شوکت اللہ

شوکت اللہ نے بتایا کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی دیکھ بھال بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

اقوا م متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یواین ایچ سی آر کے مطابق 2002ء کے بعد سے پاکستان سے لگ بھگ 35 لاکھ افغان پنا ہ گزین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔

عالمی ادارے کی ایک ترجمان دنیا اسلم خان کا کہنا ہے کہ افغانستان بعض علاقوں بالخصو ص جنوبی اضلاع میں امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے بھی یہ لوگ واپس نہیں جارہے ہیں ۔ ” اگر ایسی صورت حال بن جائے کہ اُنھیں (افغان مہاجرین کو) زبردستی واپس بھیجاجائے تو ایسا عمل دیر پا نہیں ہوگا۔ یہ ایک مصنوعی چیز ہوگی اور وہ یہاں سے جانے کے بعد واپس آ جائیں گے۔“

دنیا اسلم خان نے کہا کہ مہاجرین کی واپسی کا عمل تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے کہ جب اُن کے آبائی ملک میں رہنے کے لیے سازگار ماحول ہو۔

پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو قیام کے لیے 2012ء کے اختتام تک عارضی رجسٹریشن کارڈز جاری کیے گئے ہیں ۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود افغانوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر کے انھیں ملک میں کام کی اجازت کے لیے ویزوں کے اجراء سمیت مختلف مجوزہ سفارشات پر عمل درآمد کے لیے کام کیا جارہا ہے ۔

XS
SM
MD
LG