رسائی کے لنکس

پاک افغان سرحد پر دفاعی ہتھیاروں کی تنصیب زیر غور

  • ج

پاک افغان سرحد پر دفاعی ہتھیاروں کی تنصیب زیر غور

پاک افغان سرحد پر دفاعی ہتھیاروں کی تنصیب زیر غور

پاکستان مستقبل میں افغانستان کی جانب سے نیٹو کے ممکنہ فضائی حملوں کا موثر جواب دینے کے لیے اپنی مغربی سرحد پر دفاعی ہتھیاروں کی تنصیب پر غور کر رہا ہے۔

سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین جاوید اشرف قاضی نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایک روز قبل ہونے والے کمیٹی کے خصوصی اجلاس کو اس فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن (ڈی جی ایم او) کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ نیٹو کے مہلک حملے کے بعد سرحدوں کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہو گئے ہیں۔

’’ہمیں ڈی جی ایم او نے بتایا ہے کہ ابھی ان ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا گیا ہے لیکن اُن کی تنصیب کا معاملہ فوج کے زیر غور ہے۔‘‘

سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کی مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق ڈی جی ایم او میجر جنرل اشفاق ندیم کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں کی ممکنہ تنصیب فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اُس فیصلے کی کڑی ہے جس میں فوجیوں کو بیرونی جارحیت کی صورت میں اعلیٰ کمان کے احکامات کا انتظار کیے بغیر بھرپور جواب دینے کی اجازت دی گئی ہے۔

جنرل اشفاق ندیم نے کہا ’’مہمند ایجنسی میں دو چوکیوں پر 26 نومبر کو ہونے والے نیٹو حملے کے بعد ہمیں اپنی مغربی سرحد سے مزید حملوں کا خطرہ ہے۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ سرحدی چوکیوں پر نیٹو حملے میں پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف شدت پسندوں کے خلاف کارروائی سے متعلق وضع کردہ مشرکہ ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے سینٹ کی دفاعی کمیٹی کو میجر جنرل اشفاق ندیم کی طرف سے دی گئی بریفنگ کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی چوکیوں پر نیٹو نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حملہ کیا۔ ’’اس سوچے سمجھے حملے کا مقصد طالبان کو مضبوط کرنا تھا کیوں کہ جن دو چوکیوں پرحملہ کیا گیا وہ عسکریت پسندوں کی دراندازی کو روکنے کے لیے قائم کی گئی تھیں اور اس مقصد کے لیے موثر طریقے سے کام کر رہی تھیں۔‘‘

ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ اس واقعہ کے حوالے سے ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی چوکیوں پر ’’غیر ارادی‘‘ کارروائی کا امریکی دعویٰ درست نہیں۔

امریکہ اور نیٹو بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہ کارروائی غلطی سے کی گئی اور اُنھیں اس میں ہونے والے جانی نقصانات پر افسوس ہے۔

امریکی افواج نے اس واقعے کی تحقیقات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی ابتدائی رپورٹ 23 دسمبر کو متوقع ہے، لیکن پاکستان نے اس عمل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

جنرل اشفاق ندیم نے جمعرات کو سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ مہمند حملے سے چند گھنٹوں قبل افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے سربراہ امریکی جنرل جان ایلن کی جنرل کیانی سے راولپنڈی میں ملاقات ہوئی تھی اور جب ایک روز بعد اُن سے نیٹو حملے کے بارے میں پوچھا گیا تو اُن کا جواب تھا کہ متعلقہ مقام پر افغان و نیٹو افواج کا کسی کارروائی کا منصوبہ نہیں تھا۔

’’اس (بیان) سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ بعض آپریشن (امریکی خفیہ ادارہ) سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی اور اسپیشل آپریشن فورسز اپنے تئیں کر رہے ہیں اور اس کے بارے میں نیٹو کو اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔‘‘

نیٹو حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر پاکستان میں انتہائی سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور حکومت نے نیٹو سپلائی لائنز بند کرنے کے علاوہ بلوچستان میں شمسی ایئر بیس امریکہ سے خالی کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان سرحد پر فضائی حملوں کے خلاف ہتھیاروں کی تنصیب سے پہلے ہی تناؤ کا شکار پاک امریکہ تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے۔

بظاہر ان ہی خدشات کے تناظر میں امریکی سفیر کمیرون منٹر نے جمعہ کو اسلام آباد میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقات کی اور کہا کہ اُن کا ملک پاکستان کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو جلد از جلد معمول پر لانا چاہتا ہے۔

حنا ربانی کھر

حنا ربانی کھر

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات کی بنیاد باہمی احترام پر ہونی چاہیئے۔ اُنھوں نے کہا کہ مہمند ایجنسی میں کی گئی کارروائی نے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے روابط کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

اس موقع پر امریکی سفیر نے ایک مرتبہ پھر حالیہ واقعے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

XS
SM
MD
LG