رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی میں لڑائی کے باعث 80 ہزار افراد کی نقل مکانی کا خدشہ


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان میں حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے باعث 80 ہزار افراد نقل مکانی کرسکتے ہیں۔

افغان سرحد سے ملحقہ کرم ایجنسی کے وسطی علاقوں میں فوجی کارروائی کو شروع ہوئے پانچ دن ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق لڑائی میں اب تک کم ازکم 40 جنگجوؤں کو ہلاک اور اُن کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

شورش زدہ قبائلی علاقے میں ذرائع ابلاغ کی محدود رسائی کے پیش نظر غیر جانبدار ذرائع سے ان اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے۔

دریں اثناء وسطی کرم میں جاری لڑائی میں شدت آنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق کرم ایجنسی کے مرکزی مقام سدہ کے قریب حکومت کے قائم کردہ کیمپ میں اب تک لگ بھگ 500 خاندانوں کا اندارج کیا جا چکا ہے جب کہ مزید 2,100 خاندان اپنے عزیز و اقارب کے ہاں مقیم ہیں۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یا فاٹا میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ارشد خان نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ کرم ایجنسی میں 80 مربع کلومیٹر کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کارروائی کر رہی ہیں، جہاں اُن کے بقول آباد خاندانوں کی تعداد دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔

”یہ اندیشہ ہے کہ آٹھ سے 12 ہزار خاندان جو تقریباً 70 سے 80 ہزار لوگوں پر مشتمل ہوں گے وہ اپنے گھر چھوڑ سکتے ہیں۔“

ارشد خان کا کہنا تھا کہ حکومت کے کیمپ میں موجود خاندانوں کو پکا پکایا کھانا اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر نے کرم ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو عارضی پناہ فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر مقامی انتظامیہ کو مدد فراہم کی اور اُن کے بقول اقوام کے دیگر اداروں سے بھی رابطے جاری ہیں جنہوں نے جلد امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

XS
SM
MD
LG