رسائی کے لنکس

فوج کے بارے میں تحفظات دور کرنے کی کوشش


پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا تھا کہ لورالائی میں کاسا ماربل پراجیکٹ کا افتتاح اُن کوششوں کا تسلسل ہے جو پاکستانی فوج بلوچستان کے عوام کے لیے صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں کر رہی ہے۔ فوج کی طرف سے براہ راست فراہم کیے گئے روزگار کے موقعوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ گذشتہ سال بلوچستان سے چار ہزار نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا گیا تھا جب کہ رواں سال مزید پانچ ہزار نوجوانوں کو فوج میں شامل کیا جائے گا۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے باہمی اختلافات کو پس پشت رکھ کر ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

صوبہ بلوچستان کے شمال مشرقی ضلعے لورالائی میں پیر کو ایک ترقیاتی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ”ہمیں جان لینا چاہیئے کے باہمی جھگڑوں اور درینہ رنجشوں کو بھلا کر یک جہتی کے ساتھ آگے بڑھنا ہی ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔“

جنرل کیانی نے کہا کہ آنے والی نسلوں کو خوشحال اور دہشت گردی کی لعنت سے پاک پاکستان دینا سیاسی و عسکری قیادت سمیت عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہ تینوں قوتیں اس عزم پر قائم ہیں۔

فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ خوشحالی سے امن کو تقویت ملتی ہے اور نئے منصوبوں کی شکل میں ترقی کا جو بیج بویا جائے گا اُس کے ثمرات سے آئندہ نسلیں فائدہ اٹھائیں گی۔

کاسا ہلز ماربل پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب

کاسا ہلز ماربل پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب

اُنھوں نے کہا کہ لورالائی میں شروع کیا جانے والا کاسا ہلز ماربل پراجیکٹ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جس میں علاقے کے بیشتر وسائل مقامی افراد کی خوشحالی اور ترقی کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور اس منصوبے پر کام کے دوران روزگار کے ہزاروں مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

جنرل کیانی کے مطابق منصوبے کو پاکستان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کے لیے ایک مثال کے طور پر پروان چڑھایا جائے گا۔

معاشی سرگرمیوں میں شمولیت کی وجہ سے فوج پر کی جانے والی تنقید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جنرل کیانی نے تسلیم کیا کہ تجارتی منصوبے فوج کی ذمہ داری نہیں تاہم اُن کا موقف تھا کہ فوج عوام اور ملک کا حصہ ہے اور پاکستان کی مجموعی ترقی میں معاونت کرنا چاہتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کاسہ ماربل پراجیکٹ کا افتتاح اُن کوششوں کا تسلسل ہے جو پاکستانی فوج بلوچستان کے عوام کے لیے صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں کر رہی ہے۔

فوج کی طرف سے براہ راست فراہم کیے گئے روزگار کے موقعوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ گذشتہ سال بلوچستان سے چار ہزار نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا گیا تھا جب کہ رواں سال مزید پانچ ہزار نوجوانوں کو فوج میں شامل کیا جائے گا۔

”جب بلوچستان کے عوام فوج میں شامل ہوں گے تو یہ صحیح معنوں میں ایک قومی فوج بن جائے گی۔“

جنرل کیانی نے صوبے میں تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں عسکری اداروں کے کردار کا خصوصاً ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان نسل ملک کو خوشحال بنانے کی کوششوں میں با معنی کردار ادا کرے گی۔

اُنھوں نے بتایا کہ پاک فوج ایک اور منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے جس کے تحت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے تعلیمی اداروں میں ایسے کورسز شروع کیے جائیں گے جن کا استعمال معدنیات سے استفادہ کرنے سے متعلق ہو تاکہ بلوچستان میں شروع کیے جانے والے منصوبوں میں مقامی افراد کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

فوج کے بارے میں تحفظات دور کرنے کی کوشش

فوج کے بارے میں تحفظات دور کرنے کی کوشش

فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور اگر تھوڑی سی کوشش سے ان کو استعمال کیا جائے تو یہ ملک کا سب سے خوشحال صوبہ بن سکتا ہے۔ اُنھوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام اور قبائل کا ہے۔

”میرا پکا یقین ہے کہ ایک خوشحال بلوچستان ہی ایک خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔“

XS
SM
MD
LG