رسائی کے لنکس

’مہران بیس پر حملہ کرنے والےغیر ملکی تھے‘


حملے میں سمندری حدود کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے دو پی تھری سی اورین طیارے تباہ کر دیے گئے تھے۔

حملے میں سمندری حدود کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے دو پی تھری سی اورین طیارے تباہ کر دیے گئے تھے۔

کراچی میں پاکستان بحریہ کی فضائی تنصیب ’پی این ایس مہران‘ پر حملے میں مارے جانے والے چار دہشت گردوں کے ڈی این اے ٹیسٹس کے بعد پولیس حکام نے بتایا ہے کہ شدت پسند غیر ملکی تھے اور اُن کا پاکستان میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم میں شامل ایک عہدیدار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ چاروں حملہ آوروں کی ملنے والی ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹس کے مطابق یہ افراد پاکستان کے شہری نہیں تھے۔ اور قومی ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی یا ’نادرا‘ کے پاس بھی ان کے کوائف موجود نہیں۔

حکام کے مطابق ان حملہ آوروں کے ڈین این اے کے نمونوں کے جائزے کے بعد تیار کی گئی رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چاروں دہشت گرد قریبی رشتہ دار ہو سکتے ہیں۔

بحریہ کی انتہائی حساس تنصیب مہران ائیر بیس پر 22 مئی کی شب شدت پسندوں نے حملہ کر کے وہاں موجود نیوی کی دفاعی صلاحیت کے لیے انتہائی اہم دو پی تھری سی اورین طیاروں کو تباہ کر دیا تھا۔ دہشت گردوں کو مارنے اور ائیر بیس پر دوبارہ قبضہ بحال کرنے کے لیے آپریشن تقریباً 16 گھنٹے جاری رہا اور اس میں 10 اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG