رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی سے نقل مکانی میں اضافہ باعث تشویش

  • یاسر منصوری

اقوام متحدہ سمیت امدادی تنظیموں نے لڑائی میں شدت کے باعث خیبر ایجنسی سے قبائلی خاندانوں کی وسیع پیمانے پر نقل مکانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عطیات کی اپیل کی ہے۔

پشاور اور دیگر قریبی اضلاع میں شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی کے بعد حکام نے افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے میں رواں سال کے اوائل سے بھرپور فوجی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں کیوں کہ ان کے بقول تشدد کے واقعات میں ملوث اکثر افراد کا تعلق خیبر ایجنسی میں سرگرم کالعدم تنظیم لشکر اسلام اور دیگر شدت پسند گروہوں سے ہے۔

سکیورٹی فرسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ کے دوران دو لاکھ سے زائد افراد یہ علاقہ چھوڑ کر پشاور اور دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر کے اعلیٰ عہدے دار احمد ورسامے نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ 20 مارچ سے نقل مکانی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پشاور کے قریب قائم جلوزئی کیمپ میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کا اندارج کیا جا چکا ہے جب کہ روزانہ اوسطاً دو ہزار نئے خاندان کیمپ میں پہنچ رہے ہیں۔

’’گزشتہ چار ہفتوں کے دوران جلوزئی میں اندرونی طور پر بے دخل ہونے والے ان افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے اور ان خاندانوں کی دیکھ بھال ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلج ہے۔‘‘

احمد ورسامے نے بتایا کہ قبائلی طرز زندگی اور سماجی روایات کے تناظر میں لوگوں کی اکثریت کیمپ میں رہائش اختیار کرنے کے بجائے اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ رہنے کے لیے شہری علاقوں کا رخ کر رہی ہے، اور ان کی اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

جلوزئی کیمپ میں امدادی سرگرمیوں میں شریک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے ترجمان فارِس قاسم کا کہنا ہے کہ شورش کا براہ راست سامنا کرنے والے بچے نفسیاتی اور ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔

’’جو بچے فائرنگ اور گولہ باری ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں ان میں سے کئی سہم جاتے ہیں، کئی کو بھوک نہیں لگتی، وہ اونچی آواز سن کر یا باہر جانے سے ڈرتے ہیں۔ کئی ماؤں نے ہمیں بتایا ہے کہ اُنھیں اپنے بچوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔‘‘

یو این ایچ سی آر کے احمد ورسامے کا کہنا ہے کہ صوبائی حکام نے اُنھیں بتایا ہے کہ خیبر ایجنسی سے لوگوں کی نقل مکانی کا یہ سلسلہ کم از کم چھ ماہ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

’’نقل مکانی کرنے والے افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہم اضافی رقم کی فراہمی کی اپیل کر رہے ہیں، کیوں کہ مزید مالی وسائل کی عدم دستیابی کی صورت میں یو این ایچ سی آر سمیت دیگر امدادی تنظیموں کے لیے طویل عرصے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔‘‘

XS
SM
MD
LG