رسائی کے لنکس

سندھ طاس معاہدے پر امریکی خدشات مسترد

  • یاسر منصوری

پاکستانی حدود میں دریائے سندھ کا ایک منظر (فائل فوٹو)

پاکستانی حدود میں دریائے سندھ کا ایک منظر (فائل فوٹو)

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم پر کشیدگی کی وجہ بھارتی کشمیر میں تعمیر ہونے والے بعض متنازع ڈیم ہیں جو پاکستانی حکام کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں اور ان کی وجہ سے ملک کی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ تاہم بھارتی حکام پاکستانی خدشات اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

پاکستان نے امریکی سینٹ میں خارجہ اُمور کی کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے کے بارے میں خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان کیری کی طرف سے امریکی ایوان بالا کے سامنے منگل کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبپاشی اور پن بجلی کی پیداوار کے لیے پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ماہرین سندھ طاس معاہدے کی افادیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ روایتی حریفوں کے درمیان پانی سے متعلق تنازعات کو حل کرنے کے لیے 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے وجود کو کو ئی خطرہ ہے۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر اختلافات کو حل کرنے کے لیے یہی ایک بہترین راستہ ہے بشرطیکہ اس پر من و عن عمل درآمد کیا جائے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ آج بھی ایک فعال اور کارآمد دستاویز ہے اور پاکستان کے خیال میں اس مرحلے پر اس دوطرفہ معاہدے کے خلاف کوئی فیصلہ دینا قبل از وقت ہوگا۔

تہمینہ جنجوعہ کے بقول حالیہ برسوں میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلوں نے جنوبی ایشیا کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص متاثر کیا ہے اور یہ صورت حال اُن کے ملک کے لیے باعث تشویش ہے۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

امریکی سینٹ میں خارجہ اُمور کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پانی کی تقسیم کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی آگے چل کر تصادم کا باعث بن سکتی ہے کیوں کہ باہمی عدم اعتماد سے سندھ طاس معاہدے کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم پر کشیدگی کی وجہ بھارتی کشمیر میں تعمیر ہونے والے بعض متنازع ڈیم ہیں جو پاکستانی حکام کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں اور ان کی وجہ سے ملک کی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ تاہم بھارتی حکام پاکستانی خدشات اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

دونوں ملکوں نے ستمبر 1960ء میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) کے پانی پر پاکستان جب کہ مشرقی دریاؤں (ستلج، بیاس اور راوی) کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔

امریکی رپورٹ میں بھی تصدیق کی گئی ہے کہ جنوبی ایشیا کے جو دریا اس وقت وجہ تنازع ہیں اُن پر بھارت نے 33 منصوبے شروع کر رکھے ہیں جو تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں اور دوطرفہ کشیدگی کی وجہ ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ متنازع 330 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا کشن گنگا ڈیم کا مجوزہ منصوبہ ہے جو دریائے سندھ کی ایک شاخ پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جائزوں کے مطابق بھارت میں زیر تعمیر کوئی ایک ڈیم بھی سندھ طاس معاہدے میں شامل دریاؤں کے پانی تک پاکستان کی رسائی کو متاثر نہیں کرے گا لیکن ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد بھارت اتنا پانی ذخیرہ کرنے کے قابل ہو جائے گا کہ فصلوں کی بوائی کے وقت پاکستان کو دستیاب پانی کی مقدار کو محدود کر سکے۔

مزید براں امریکی سینٹ میں خارجہ اُمور کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں پانی کی قلت کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی علاقائی استحکام کو متاثر کرنے کے علاوہ خطے میں امریکی خارجہ پالیسی کے اہداف پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG