رسائی کے لنکس

نیٹو ساز و سامان کے باعث بندرگاہوں پر جگہ کی کمی


نیٹو ساز و سامان کے باعث بندرگاہوں پر جگہ کی کمی

نیٹو ساز و سامان کے باعث بندرگاہوں پر جگہ کی کمی

نیٹو کے ساز و سامان کی افغانستان ترسیل پر پابندی کے بعد پاکستان کی دو بندر گاہوں پر اس کے انبار لگ گئے ہیں جس کی وجہ سے معمول کی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

کراچی پورٹ اور بن قاسم پورٹ ملک کی تجارتی نوعیت کی مرکزی بندرگاہیں ہیں لیکن عہدے داروں کا کہنا ہے کہ آج کل وہاں سامان رکھنے کی گنجائش محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق رسد کی ترسیل پر پابندی کے بعد سے ناصرف چار مال بردار بحری جہازوں پر لدے آہنی کنٹینرز ان بندرگاہوں پر اُتارے جا چکے ہیں بلکہ سینکڑوں فوجی گاڑیاں بھی وہیں کھڑی ہیں۔

آل پاکستان بانڈڈ کیریئرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شمس برنی نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ بندرگارہ پر سامان محفوظ کرنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے اور اس کی نقل وحمل میں تاخیر کے باعث دیگر اشیا کی برآمدات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

’’(نیٹو کے اس ساز و سامان نے) پورٹس پر جگہ تو گھیری ہوئی ہے۔ اس وقت تقریباً 2,500 کنٹینرز اور 1,200 فوجی گاڑیاں یہاں موجود ہیں۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اتحادی افواج کے سامان کی ترسیل پر عائد کی گئی پابندی کے وقت تقریباً 1,500 کنٹینرز اور آئل ٹینکرز بندرگاہ سے نکلنے کے بعد افغان سرحد کی طرف روانہ ہو چکے تھے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہیں بند کردی گئیں اور ان قافلوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں شاہراؤں کے قریب ہی پڑاؤ کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید برآں اُنھوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی ہدایت پر سامان سے لدے یہ ٹرک واپس کراچی بھی پہنچ رہے ہیں کیونکہ مقامی حکام نے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر ان کنٹینرز کو صوبے سے باہر نکل جانے کا حکم دے رکھا ہے۔

شمس برنی نے بتایا کہ نیٹو اور اتحادی افواج کے سالانہ 175,000 کنٹینرز کراچی کی بندرگاہ پر اترتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق کراچی اور بن قاسم بندرگاہوں کی انتظامیہ کے عہدیداروں نے حکومت سے جلد از جلد موجودہ مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان کے بقول بندرگاہ پر طویل عرصے تک سامان رکھنے کا انتظام موجود نہیں ہے اور اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں بندرگاہ پر پاکستان کی اپنی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے کم از کم 40 فیصد ایندھن، غذائی اشیا اور دیگر سامان پاکستان کے راستے بھیجا جاتا ہے لیکن 26 نومبر کو مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے میں دو درجن پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے اس رسد کی ترسیل پر احتجاجاً پابندی عائد کر رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG