رسائی کے لنکس

نیٹو قافلوں پر پابندی کے باعث ٹرکوں کا عملہ پریشانی کا شکار

  • ستار کاکڑ

نیٹو قافلوں پر پابندی کے باعث ٹرکوں کا عملہ پریشانی کا شکار

نیٹو قافلوں پر پابندی کے باعث ٹرکوں کا عملہ پریشانی کا شکار

امریکی اور اس کی اتحادی افواج کے لیے ایندھن کے علاوہ خوراک اور دیگر غیر مہلک اشیاء کا 40 فیصد حصہ پاکستان کے راستے افغانستان بھیجا جاتا ہے، لیکن ہفتہ کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی سیکورٹی فورسز پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد حکومت نے احتجاجاً رسد کی ترسیل پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اقدام کے بعد بیسیوں کی تعداد میں نیٹو فورسز کے لیے سامان لے جانے والے ٹرک صوبہ خیبر پختون خواہ میں طورخم اور صوبہ بلوچستان میں چمن کے علاوہ دیگر علاقوں میں کھڑے ہیں۔

ان ٹرکوں کے ڈرائیوروں اور عملے کے ارکان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے غیر آباد علاقوں میں سرگرم مشتبہ عسکریت پسند سڑک کے کنارے کھڑی ان کی گاڑیوں پر اکثر حملے کرتے رہتے ہیں، جن میں کئی افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

ایسے ہی ایک ٹرک کے عملے میں شامل حسیب الرحمٰن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ’’ابھی ہمارا کوئٹہ تک پہنچنا ضروری ہے کیونکہ یہاں ہماری جان کو خطرہ ہے۔ کسی وقت بھی کوئی حملہ کر سکتا ہے۔‘‘

صوبائی حکومت نے ان قافلوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں لیکن ٹرک ڈرائیور اور دیگر عملہ بظاہر ان انتظامات سے مطمئن نہیں۔

کچھ اس ہی طرح کی صورتحال صوبہ خیبر پختون خواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی پائی جا رہی ہے۔

البتہ حکام نے بتایا ہے کہ نیٹو کو رسد کی ترسیل پر پابندی کے بعد ٹرکوں کو پشاور اور اس کے قریب قائم اڈوں پر حملوں کے خطرے کے پیش نظر واپس صوبہ پنجاب کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں نیٹو کی کارروائی میں دو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد حکومت نے طورخم سرحد پر نیٹو کے لیے سامان لے جانے والے ٹرکوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا تھا اور تقریباً روز تک جاری رہنے والی اس بندش کے دوران مشتبہ طالبان عسکریت پسندوں نے مختلف مقامات پر کھڑے قافلوں پر حملے کر کے 300 سے زائد ٹرکوں کو تباہ کر دیا تھا جبکہ ان واقعات میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG