رسائی کے لنکس

وزیرستان میں طویل وقفے کے بعد ڈرون حملہ، چار ہلاک


وزیرستان میں طویل وقفے کے بعد ڈرون حملہ، چار ہلاک

وزیرستان میں طویل وقفے کے بعد ڈرون حملہ، چار ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں کم از کم چار شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

انٹیلی جنس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حملہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہوا جس میں مرکزی قصبے میران شاہ کے نواحی علاقے میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آخری میزائل حملہ 17 نومبر کو ہوا تھا جس کے ایک ہفتے بعد مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا جو بظاہر ان مبینہ امریکی حملوں میں طویل تعطل کی وجہ بنا۔

نیٹو حملہ سے پاک امریکہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے اور اس کے ردعمل میں پاکستان نے اپنی سر زمین کے راستے اتحادی افواج کے لیے رسد کی ترسیل پر غیر معینہ پابندی عائد کرنے کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں شمسی ایئر بیس کو بھی امریکہ سے خالی کروا لیا تھا جہاں سے اطلاعات کے مطابق ڈرون حملے کیے جا رہے تھے۔

مبصرین کے خیال میں بدھ کو ہونے والا ڈرون حملہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بنے گا۔

امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ڈرون حملوں کے ذریعے القاعدہ اور اس سے منسلک شدت پسند تنظیموں کو کمزور کرنے میں مدد ملی ہے۔

لیکن پاکستان ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے کر ان کی مذمت کرتا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ شہریوں کی ہلاکت کے باعث انسداد دہشت گردی کی مہم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اسلام آباد میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ’Conflict Monitoring Center‘ یا سی ایم سی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2011 میں مجموعی طور پر پاکستان میں عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر 75 ڈرون حملے کیے گئے جن میں کل 609 ہلاکتیں ہوئیں۔ جبکہ رپورٹ میں 2010 میں ڈرون حملوں کی تعداد 132 بتائی گئی ہے جن میں 938 ہلاکتیں ہوئیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ان مبینہ امریکی میزائل حملوں میں القاعدہ کے صرف تین کمانڈر مارے گئے جو عرب تھے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کو مطلوب ایک دہشت گرد جبکہ پاکستانی عسکریت پسندوں کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے محض چار اعلٰی کمانڈر ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے۔

سی ایم سی کے مطابق یہ اعداد وشمار ثابت کرتے ہیں کہ شدت پسند رہنماؤں کے خاتمے کے لیے مبینہ طور پر امریکی سی آئی اے کی ڈرون حملوں کی انتہائی مہنگی مگر متنازع مہم ’’موثر ثابت نہیں ہو رہی ہے‘‘۔

جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2004 سے اب تک پاکستانی علاقوں پر 303 ڈرون حملے کیے گئے ہیں جن میں کل 2661 مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے۔

XS
SM
MD
LG