رسائی کے لنکس

’امریکہ الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد فراہم کرے‘

  • یاسر منصوری

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ ہفتہ کو دورہِ افغانستان کے موقع پر کیا۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ ہفتہ کو دورہِ افغانستان کے موقع پر کیا۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے پاس القاعدہ کے نئے رہنما ایمن الظواہری اور دیگر اہم اہداف کی قبائلی علاقوں میں موجودگی کے مستند شواہد دستیاب ہیں تو یہ معلومات فوج کو فراہم کی جائیں تاکہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جا سکے۔

اُن کا یہ مطالبہ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کے ایک روز قبل دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اُنھوں نے ایمن الظواہری کی وفاق کے زیرِ انتظام پاکستانی قبائلی علاقوں میں موجودگی کا دعویٰ کیا تھا۔

اتوار کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک بار پھر واضح کیا کہ القاعدہ اور اس کی معاون تنظیموں کے خلاف پہلے ہی بھرپور فوجی کارروئیاں جاری ہیں کیوں کہ یہ عناصر خود پاکستان کی سلامتی اور اس کے عوام کے لیے خطرہ ہیں۔

’امریکہ الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد فراہم کرے‘

’امریکہ الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد فراہم کرے‘

مزید برآں اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوجی کارروائیوں میں دہشت گردوں اور اُن کے رہنماؤں سمیت دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کے بقول اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں پناہ گاہ سے حاصل ہونے والے مواد اور گزشتہ کئی سالوں کے دوران اکٹھی کی گئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر پاکستان سمیت دیگر ملکوں میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کئی دہشت گردوں کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔

امریکی اور پاکستانی حکام کے مابین تنقیدی بیانات کا یہ سلسلہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کی غمازی کرتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے بار بار یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ دوطرفہ روابط معمول پر آ رہے ہیں۔

دریں اثنا امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی تازہ ترین خبر میں کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات اگر بہتر نا ہوئے تو امریکی عہدے دار پاکستانی فوج کو فراہم کی جانے والی کروڑوں ڈالر کی امداد ”معطل اور بعض صورتوں میں منسوخ“ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

ایک روز قبل فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک الگ بیان میں ’نیویارک ٹائمز‘ میں پاکستانی فوج کے خلاف تسلسل کے ساتھ مضامین کی اشاعت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ یہ پاکستانی ریاست کو کمزور کرنے کی ایک منظم مہم ہے۔

XS
SM
MD
LG