رسائی کے لنکس

پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے کہ امریکہ بلاشبہ عالمی طاقت ہے اور وہ اپنی اس حیثیت کو بطور انتباہ بھی استعمال کرتا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار نے اعتراف کیا ہے کہ مسلسل درخواست کے باوجود امریکہ نے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

لاہور میں اتوار کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ امریکہ بلاشبہ عالمی طاقت ہے اور وہ اپنی اس حیثیت کو بطور انتباہ بھی استعمال کرتا ہے۔

’’ڈرون حملوں (کے معاملے) پر ہم نے امریکی حکومت سے بار ہا درخواست کی یہ مت کریں، (یا) ہمارے ساتھ مل کر کریں لیکن وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہم خود کریں گے۔‘‘

وزیرِ دفاع نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شمالی وزیرستان میں کی جانے والی دو کارروائیوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان حملوں کے بعد پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کو اندرون ملک ایک بار پھر سخت تنقید کا سامنا ہے کیوں کہ پارلیمان کے گزشتہ ماہ ہونے والے مشترکہ اجلاس میں متقفہ طور پر منظور کی گئی قرار داد میں ڈرون حملوں کی فوری بندش کا مطالبہ سر فہرست تھا۔

رواں ہفتے ایک انٹرویو میں جب امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی بھی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔

مہمند ایجنسی میں سلالہ فوجی چوکی پر نومبر 2011ء میں کیے گئے نیٹو حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے امریکہ اور اتحادی افواج کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو تعین کا اعلان کیا تھا، اور اس مہلک فضائی کارروائی پر اپنے سخت ردعمل میں افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے رسد کی ترسیل پر بھی پابندی عائد کر دی تھی جو تاحال برقرار ہے۔

پارلیمان تعلقات کی بحالی کے لیے رہنما اُصولوں پر مشتمل دستاویز کی منظوری دے چکی ہے جس پر پاکستانی اور امریکی حکام بات چیت کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع احمد مختار نے اتوار کو کہا کہ عوامی رائے تو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی موجودہ کیفیت کے حق میں ہے، لیکن اُنھوں نے متبنہ کیا کہ اس صورت حال کا زیادہ دیر تک برقرار رہنا ملک کے مفاد میں نہیں۔

دریں اثنا مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں میں دعوی کیا گیا ہے کہ سلالہ چیک پوسٹ پر مہلک حملے پر امریکی معافی نامے کے لیے اسلام آباد میں امریکہ اور پاکستان کے سفارت کار مشترکہ طور پر ایک مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان کوششوں میں واشنگٹن میں پاکستان کی سفیر شیری رحمن بھی حصہ لے رہی ہیں اور توقع ہے کہ 20 مئی کو شکاگو میں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں نیٹو کانفرنس سے قبل باہمی اختلافات دور کرلیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملات طے پانے کی صورت میں شکاگو کانفرنس میں پاکستان کی شرکت اور نیٹو سپلائی لائنز کی بحالی بھی یقینی ہوجائے گا۔

امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کی ان اطلاعات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG