رسائی کے لنکس

پاکستانی حدود میں کارروائی صرف مقامی افواج ہی کریں گی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف امریکہ کے ساتھ مل کر مشترکہ فوجی آپریشنز سے متعلق خبروں کی تردید کی۔

پاکستان نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف امریکہ کے ساتھ مل کر مشترکہ فوجی آپریشنز سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی حدود میں جنگجوؤں کے خلاف کوئی بھی کارروائی صرف مقامی افواج ہی کریں گی۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان روز اول سے یہ واضح کرتا آیا ہے کہ بین الاقوامی افواج کو ملکی حدود میں کارروائی کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔

’’پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے لیکن خفیہ معلومات کے تبادلے میں امریکہ سے یقیناً ہمیشہ تعاون کیا جاتا رہا ہے۔ ہمارا واضح موقف ہے کہ کسی کو بھی ملکی خودمختاری کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘
پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے لیکن خفیہ معلومات کے تبادلے میں امریکہ سے یقیناً ہمیشہ تعاون کیا جاتا رہا ہے۔


وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے اس بیان سے ایک روز قبل سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں مجوزہ فوجی آپریشن کے حوالے سے کسی طرح کا امریکی دباؤ برداشت نا کیا جائے۔

رواں ہفتے امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا نے ایک انٹرویو میں عندیہ دیا تھا کہ پاکستان مستقبل قریب میں شمالی وزیرستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف جنگی کارروائی شروع کرے گا۔

امریکہ طویل عرصے سے شمالی وزیرستان میں مبینہ طور پر سرگرم حقانی نیٹ ورک کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ کرتا آیا ہے، جب کہ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ اس قبائلی علاقے میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی طرح کی کارروائی کی جائے گی۔

امریکی حکام کے بیانات کے برعکس پاکستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں دوطرفہ تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں۔
معظم احمد خان

معظم احمد خان


وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس موقف کا ایک بار پھر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی اور سلامتی کے اُمور سمیت دیگر شعبوں میں پاک امریکہ تعلقات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے کیوں کہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG