رسائی کے لنکس

پاکستان کے راستے نیٹو رسد کی ترسیل بحال کرنے کا عندیہ

  • یاسر منصوری

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو ساز و سامان کی ترسیل احتجاجاً بند کرنے کا مقصد حاصل ہو چکا ہے اس لیے اب ’’آگے بڑھنا‘‘ چاہیئے۔

مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نومبر کے اواخر میں نیٹو کے فضائی حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے امریکہ اور اتحادی افواج کے ساتھ شراکت داری کی شرائط کا از سر نو تعین کرنے کے علاوہ کے اپنی سرزمین کے راستے نیٹو کے لیے رسد کی ترسیل پر بھی فوری پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جو پانچ ماہ گزرنے کے باوجود تاحال برقرار ہے۔

اسلام آباد میں پیر کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے پہلی مرتبہ نیٹو سپلائی لائنز کی جلد بحالی کا واضح اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ راہ داری اس لیے بند کی گئی تھی کیوں کہ پاکستان کی نظر میں امریکی حملہ بلا جواز تھا۔

’’پاکستان کے لیے اپنا موقف ثابت کرنا ضروری تھا جو اس نے کیا اور اب (اس صورت حال سے) آگے بڑھ کر مثبت ماحول میں دوطرفہ تعلقات بحال کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

اُنھوں نے اس تاثر کو صریحاً مسترد کیا کہ رسد کی ترسیل پر پابندی عائد کرکے پاکستان افغانستان میں جاری شدت پسندی کے انسداد کی بین الاقوامی کوششوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

وزیرِ خارجہ کے بقول ایک عشرے سے زائد عرصے تک پاکستان کے راستے نیٹو کے لیے رسد کی ترسیل پر کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا گیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ٹرکوں کی مسلسل آمد و رفت نے قومی شاہ راہوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور راہ داری کی سہولت کی فراہمی ملک میں امن عامہ کی خرابی کا بھی باعث بنی۔

’’یہ سب کچھ ہم نے اس لیے کیا ہے کیوں کہ ہم افغانستان میں موجود تقریباً 42 ممالک کی (دہشت گردی کے خلاف لڑائی) میں آسانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

سرکاری عہدے داروں کے مطابق پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

حنا ربانی کھر کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے ملک کی سیاسی و فوجی قیادت پر مشتمل کابینہ کی دفاعی اُمور کمیٹی کا اجلاس منگل کو طلب کر رکھا ہے جس میں پاک امریکہ شراکت داری کی شرائط بشمول نیٹو سپلائی لائنز کی بحالی کے بارے میں اہم فیصلے متوقعے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں ان سپلائی لائنز کی بحالی سے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں امریکی شہر شکاگو میں 20 مئی سے شروع ہونے جا رہی دو روزہ نیٹو کانفرنس میں پاکستان کو مدعو کیے جانے کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے، جب کہ ایک ارب ڈالر سے زائد امریکی فوجی امداد کی فراہمی کی راہ بھی ہموار ہو گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG