رسائی کے لنکس

اٹھارویں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا گیا


اٹھارویں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا گیا

اٹھارویں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا گیا

پارلیمان کی آئینی اصلاحات کی کمیٹی کے چیرمین سینیٹر رضا ربانی نے پیر کی شام ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں اٹھارویں ترمیم کے نام سے آئینی اصلاحات کا بل باقاعدہ بحث و منظوری کے لیے پیش کیا۔

اُنھوں نے اِس موقع پر ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد آئین میں ترمیم کا ایک ایسامسودہ تیار کیا گیا جِس کے منظوری کے بعد ملک میں 1973ء کا آئین مکمل طور پر بحال ہو جائے گا۔

رضا ربانی نے اپنی افتتاحی تقریر میں مسودے میں شامل چیدہ چیدہ نکات اور اُن کی تشریح ایوان کےسامنے پیش کی۔

اِس موقعے پر سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ 1973 ء کے بعد یہ وہ واحد پارلیمنٹ ہے جِس نے اپنی ہی تحریک پر خود بیٹھ کے اپنی آئینی ترامیم تجویز کیں اور اُنہی ترامیم کو وہ خود منظور کر رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی کے دو تہائی سے زائد اراکین نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی تھی۔ لیکن، آئین کا حصہ بننے کے لیے سینیٹ سے بھی ایک تہائی منظوری شرط ہے۔ تاہم، اِس مسودے میں صوبہٴ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھنے کی شق پر ہزارہ ڈویژن میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے بعد بعض ناقدین کے مطابق اپوزیشن جماعتیں مل کر مجوزہ مسودے پر اتفاقِ رائے کے باوجود صوبے کے نام کی تبدیلی کی شق کی مخالفت کر سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG