رسائی کے لنکس

الطاف حسین کی غیر مشروط معافی کے بعد توہین عدالت کا نوٹس خارج


متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے عدالت عظمیٰ میں توہین عدالت کے مقدمے میں پیر کو غیر مشروط معافی مانگی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

پاکستان سپریم کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ ’ایم کیو ایم‘ کے قائد الطاف حسین کی طرف سے غیر مشروط معافی نامے کے بعد ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا ہے۔

پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے ایم کیو ایم کے خود ساختہ جلا وطن رہنماء کے وکیل فروغ نسیم نے معافی نامہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل عدلیہ اور ججوں کا مستقبل میں بھی عزت و احترام کریں گے۔

الطاف حسین نے اپنے معافی نامے میں کہا کہ ان کی جدوجہد ہمیشہ قانون کی حکمرانی کے لیے ہی رہی ہے اور وہ عدلیہ اور ججوں کی عزت و احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور ججوں کے خلاف اپنے بیان کی معافی مانگتے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ایم کیو ایم کے رہنماء کی غیر مشروط معافی کو تسلیم کرتے ہوئے اس عمل کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ عدالت بھی ان کا احترام کرتی ہے۔

سماعت کے دوران ایم کیو ایم کے صوبائی اور وفاقی وزراء کے علاوہ جماعت کے اراکین پارلیمان کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

گزشتہ ماہ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الطاف حسین نے اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب میں عدالت عظمیٰ کے خلاف جارحانہ زبان استعمال کی تھی۔ جس پر عدالت نے ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا اور انہیں عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی۔ ایم کیو ایم کے جانب سے اس پر شدید رد عمل بھی سامنے آیا تھا۔

تاہم ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما فاروق ستار نے عدالت میں اس معاملے کی سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کے قائد کی طرف سے معافی نامہ اس بات کی غمازی ہے کہ وہ عدالتوں اور ججوں کے وقار کا احترام کرتے ہیں۔

’’عدلیہ کی آزادی کا یہ تقاضہ ہے کہ ہم اس کے وقار کو ہر حال میں برقرار رکھیں۔ ظاہر ہے کہ اگر ہمارے کسی عمل سے ان کے وقار میں اگر کمی آتی ہے یا ہماری کسی بات سے عدالتوں کی توہین کا عنصر آتا ہے تو دانشمندی ہے کہ اس معاملے میں غیر مشروط معافی مانگی جائے۔‘‘

کراچی میں بد امنی سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت میں اسی تین رکنی بینچ نے صوبہ سندھ کی حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت دی کہ دو ہفتوں میں عدالت میں تفصیلات جمع کرائیں کہ جرائم کو روکنے اور شہر میں امن و امان بحال کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر کس حد تک عمل در آمد کیا گیا۔

عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ فتح محمد کو کہا کہ وہ اپنی رپورٹ میں ان وجوہات کو بھی بیان کریں کہ ایک سال قبل دی گئیں عدالت کی ہدایات پر عمل درآمد کیوں نہ کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا ’’آپ (حکومت سندھ) کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پہلے سے جمع ہے اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘‘

جج عصمت سعید شیخ نے حکام کی جانب سے ’’غیر مطمئن‘‘ جوابات پر بظاہر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’اس عدالت نے ہدایات دی تھیں اور عدالت کو معلوم ہے کہ ان پر عمل درآمد کیسے کروایا جاتا ہے۔‘‘

عدالت نے سندھ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری وسیم احمد صدیقی کے اس بیان کو رد کر دیا کہ کراچی میں گزشتہ ایک سال میں بھتہ مافیا پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

فاروق ستار جو کہ اس عدالتی سماعت میں موجود تھے کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بد امنی پر قابو پانے کی اہلیت میں کمی ہے۔

’’دہشت گردوں اور جرائم مافیا میں گٹھ جوڑ ہے جسے ختم کرنے کے لیے ہمیں کمیونٹی کو اختیارات دینے ہوں گے اور اس کے لیے ضلعی حکومتی نظام کو بحال کرنا لازم ہے۔‘‘

کراچی میں بدامنی کی روک تھام کے لیے عدالت اعظمٰی کے فیصلوں پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ کرنے سے متعلق عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاجی محمد عدیل کی سندھ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی پیر کو منظور کر لی گئی۔

کراچی آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا اقتصادی مرکز جانا جاتا ہے۔ مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کراچی میں بدامنی سے ملک کی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG