رسائی کے لنکس

پاکستان: انسانی حقوق کی تنظیموں کی اپیلوں کے باوجود پھانسیاں جاری

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان میں دسمبر 2014 میں سزائے موت پر عائد پابندی اٹھائے جانے کے بعد سے اب تک 250 سے زائد مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد پر تشویش کا اظہار کیے جانے کے باوجود ملک میں پھانسیاں دیئے جانے کا عمل جاری ہے اور رواں ہفتے ہی کم از کم 14 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔

جمعرات کو پاکستان کی مختلف جیلوں میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائں کے قاتل زمان سمیت چھ افراد کو قتل کے جرم میں پھانسی دی گئی جبکہ اسی ہفتے پنجاب کی مختلف جیلوں میں دیگر آٹھ مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ کے رہنما غلام حید وائں کو 1993 میں میاں چنوں میں ایک انتخابی جلسے کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

دسمبر 2014 ء میں سزائے موت پر عائد پابندی اٹھائے جانے کے بعد سے اب تک 250 سے زائد مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے جن کی اکثریت فوجداری مقدمات میں سزا پانے والے مجرموں پر مشتمل ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے 10 اکتوبر کو سزائے موت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر ایک طرف سزائے موت کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا اور دوسری جانب حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ ان سزاؤں پر عمل درآمد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے علاوہ ایسے مقدمات میں حفاظتی اقدامات متعارف کرائے جن میں ملزم کی ذہنی کیفیت یا اس کی عمر مشکوک ہو۔

سزاؤں پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد متعدد ایسے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ سزائے موت پانے والے ایک سے زائد قیدیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جرم کے وقت ان کی عمر 18 سال سے کم تھی جس کے باعث ان کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

ان میں شفقت حسین کا کیس بھی شامل تھا جس کا دعویٰ تھا کہ جرم کے وقت اس کی عمر 14 برس تھی اور اس نے الزام لگایا کہ پولیس نے اس سے زبردستی اعتراف جرم کروایا۔ شفقت حسین کو 4 اگست کو پھانسی دے دی گئی۔

پاکستان کے قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے افراد کو نابالغ تصور کیا جاتا ہے اور انہیں کسی بھی جرم میں سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

اس کے علاوہ قتل کا ایک اور مجرم خضر حیات شدید ذہنی مرض "شیزوفرینیا" میں مبتلا ہے اور جیل میں 17 سال رہنے کے دوران اس کے مرض میں اضافہ ہوا ہے۔

مئی اور جولائی میں دو مرتبہ اس کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے مگر دونوں مرتبہ پھانسی پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کی ذہنی حالت اس قدر خراب ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ اسے سزائے موت دی جانی ہے۔

پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ذہنی مرض میں مبتلا افراد کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔

ایک اور سزا یافتہ معذور شخص عبدالباسط کی پھانسی پر عملدرآمد اس لیے روکنا پڑا کیونکہ وہ تختہ دار پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں تھا۔

عبدالباسط کو جب 2008 میں گرفتار کیا گیا تو وہ بالکل تندرست تھا مگر جیل میں اس کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔ 2010 میں اسے تپ دق کا مرض لاحق ہوا۔

بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کے باعث اس کی صحت اس قدر بگڑ گئی کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچا اور وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہو گیا۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ ایسے انفرادی مقدمات میں سول سوسائٹی کی جانب سے کی جانے والی اپیلوں کے جواب میں آخری وقت میں کارروائی کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ سوچ سمجھ کر ایک مؤثر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس کے تحت ایسے کیسوں سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔

انسانی حقوق کمیشن کی چیئر پرسن زہرا یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دنیا کے 75 فیصد ممالک میں یا تو موت کی سزا ختم کر دی گئی ہے یا اس پر کسی قسم کی پابندی ہے اور انسانی حقوق کمیشن کا حکومت پاکستان کے لیے بھی یہی مطالبہ ہے کہ ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد کو معطل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک جو متنازع کیس سامنے آ چکے ہیں ان میں سے کچھ بہت افسوسناک ہیں۔

’’ایک معذور شخص کی سزا پر جیل حکام نے عملدرآمد روک دیا۔ ان کی رحم کی اپیل کو بھی صدر نے مسترد کر دیا تھا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ کوئی معذور ہے اور وہیل چیئر میں ہے مگر اس کی رحم کی اپیل مسترد کر دی جائے۔ میرے خیال میں جس کی بھی رحم کی اپیل آتی ہے اس پر بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش حالات میں قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد ناگزیر ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جانے کے بعد ہی مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دسمبر میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان میں سزائے موت پر چھ سال سے عائد پابندی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ شروع میں صرف دہشت گردی کے مقدمات میں سزا پانے والے مجرموں کی سزاؤں پر عملدرآمد کیا گیا مگر بعد میں تمام مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کی سزاؤں پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG