رسائی کے لنکس

خاکروب کی آسامی، متنازع اشتہار پر اظہار برہمی

  • شمیم شاہد

آسامی کے لیے شائع ہونے والا اشتہار

سرگرم کارکن آگسٹن جیکب اس اشتہار کو سماجی تفریق پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک بلدیاتی محکمے کی طرف سے خاکروب کی خالی آسامیوں کے لیے غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ شیعہ مسلک کے مسلمانوں کو بھی درخواست دینے کا اہل قرار دیے جانے پر سماجی حلقوں میں خاصی برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ضلع بنوں کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے اخبار میں جاری کیے گئے ایک اشتہار میں خاکروبوں کی 14 آسامیوں پر شیعہ، ہندو، بالمیکی اور عیسائی برادری کے لوگوں کو درخواست دینے کا اہل قرار دیا گیا تھا۔

مسیحیوں کے حقوق کے لیے ایک سرگرم کارکن آگسٹن جیکب اس اشتہار کو سماجی تفریق پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "یہ برائی کی طرف لے جا رہے ہیں جہاں ہم سب مل کر رہنے کی بات کر رہے ہیں پاکستانی ہونے کی بات کر رہے ہیں اس قسم کا اشتہار دینا اور وہ بھی حکومت کی طرف سے اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسے اس کی پرواہ نہیں تھی۔"

اس اشتہار کو لے کر خاص طور پر ٹوئٹر پر لوگوں کی طرف سے خاصی تنقید کی جاتی رہی ہے۔

صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی پیر کو ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ بنوں میں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان نفرت اور ہتک کو فروغ دے رہی ہے۔ انھوں نے صوبائی وزیراعطم سے اس تعصب کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنوں کے تحصیل ناظم کا تعلق جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہے جو کہ سیاسی طور پر تحریک انصاف کے حریف جماعت ہے۔

مسیحی سرگرم کارکن آگسٹن جیکب نے بھی مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اس معاملے کا جائزہ لے اور ایسا اشہتار اگر غلطی سے بھی شائع کیا گیا ہے تو ایسے اقدام کو مستقبل میں رونما ہونے سے روکنے کے لیے اقدام کرے۔

پیر کو دیر گئے تحصیل ناظم ملک احسان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ اشتہار غلطی سے شائع ہوا جس پر وہ معذرت کرتے ہیں اور ان کے بقول متعلقہ عملے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG