رسائی کے لنکس

فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مئی 2005ء میں اسے موت کی سزا سنائی تھی جب کہ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور صدر مملکت اس کی اپیلیں مسترد کر چکے تھے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تین افراد کے قتل کے مجرم کو جمعرات کی صبح پھانسی دے دی گئی۔

مجرم محمد صدیق نے 2004ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک اسٹیج ڈرامے کے دوران اس وقت فائرنگ کر کے تین افراد کو قتل کردیا تھا جب وہ اسٹیج پر ہونے والے رقص پر ہلڑ بازی کر رہے تھے۔

صدیق سابق فوجی اہلکار تھا اور اس وقت جائے وقوع پر سکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے متعین تھا۔

فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مئی 2005ء میں اسے موت کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس کی اپیلیں بھی مسترد ہو چکی تھیں جب کہ آخری مرحلے میں صدر پاکستان نے بھی اس کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

پاکستان نے گزشتہ دسمبر میں سزائے موت پانے والے دہشت گردوں کی پھانسیوں پر عملدرآمد تقریباً چھ سال کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ رواں ہفتے ہی سزاؤں پر عملدرآمد کا دائرہ کار دہشت گردی کے علاوہ دیگر جرائم میں بھی موت کی سزا پانے والوں تک بڑھا دیا گیا۔

سزاؤں پر عملدرآمد بحال ہونے کے بعد محمد صدیق پچیسواں مجرم تھا جسے تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان سے پھانسیوں پر عملدرآمد کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش سنگین سلامتی کے خطرات کے پیش نظر سزاؤں پر عملدرآمد کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG