رسائی کے لنکس

پاکستانی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پارلیمان کی سرکاری اداروں پر سخت نگرانی سے بدعنوانی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اتوار کو بد عنوانی کے خلاف عالمی دن منایا گیا۔ اس حوالے سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور نجی ٹی وی چینلز نے ملک میں بدعنوانی سے متعلق خصوصی رپورٹس بھی نشر کیں۔

بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال میں بد عنوانی میں اضافہ جبکہ قانون کی پاسداری میں کمی ہوئی ہے۔ تنظیم کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو بد عنوان ترین ملکوں کی فہرست میں 33 ویں نمبر پر بتایا گیا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں موثر اور سخت احتساب کے قانون کی عدم موجودگی ہے۔

تاہم حکمران پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور سرکاری اداروں کے احتساب کرنے والی پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل گوندل کا کہنا ہے کہ بد عنوانی کو خواہ مخواہ ایک بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے اور اگر سرکاری اداروں کی کارکردگی پر پارلیمان کی نگرانی کو مزید فعال اور بہتر کر لیا جائے تو بدعنوانی پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

’’تیسری دنیا یا جہاں وسائل کی کمی ہے وہاں کرپشن لوگوں کی آمدن کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اگر آپ اداروں کو مضبوط کریں گے تو معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔ آسامیوں پر بھرتیوں تبادلوں میں قانون کی بالادستی پر عمل ہو۔ بجٹ کے قوانین پر چلیں تو کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی۔‘‘

ندیم افضل گوندل کہتے ہیں کہ انسداد بدعنوانی کے مزید اداروں کا قیام بد عنوانی کے فروغ کا باعث ہو سکتا ہے۔

حکمران پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں ایک احتساب بل کا مسودہ پیش کیا تھا جسے بیشتر اراکین نے کمزور اور لاغر قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے۔ اس مجوزہ حکومتی قانون کے تحت کسی بھی بد عنوانی کے جرم کے ارتکاب کے دس سال بعد اس کے بارے میں تحقیقات نہیں کی جائیں گی۔

حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی انوشہ رحمان اس مجوزہ بل پر حکومت کے ساتھ اس مجوزہ بل پر ہونے والے مذاکرات میں شریک تھی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انوشہ رحمٰن کہتی ہیں۔

’’اپنے اقدار اور نظریات کو مضبوط نہیں کرتے اور ہم نے ایک ایسا ہدف حاصل کرنا ہے جو کہ ہمارے نصاب میں ہی شامل نہیں تو پھر اس کا حصول بہت مشکل ہے۔ سماج میں بڑھتی غربت کسی کو بد عنوانی کرنے کی دلیل مہیا نہیں کرتی۔۔۔ہمیں خود رشوت نہ دے کر کام کروانے کی عادت ڈالنی ہوگی۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ بد عنوانی کی لعنت کا خاتمہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ معاشرے میں اس کے خلاف منظم مہم کے ذریعے ہر فرد میں اس کی ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
XS
SM
MD
LG