رسائی کے لنکس

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بظاہر نشے کے لیے کھانسی کا شربت پینے والوں نے زائد مقدار میں یہ دوا استعمال جس کہ وجہ سے حالت بگڑی۔

پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں مبینہ طور پر کھانسی کا شربت پینے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔

صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ گزشتہ تین روز کے دوران 34 افراد کو کھانسی کا شربت پینے کے بعد طبعیت بگڑنے سے اسپتال لایا گیا اور اب بھی متاثرہ افراد کی اسپتال آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

گوجرنوالہ کے ضلعی اسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر گلزار احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ گیارہ متاثرہ افراد گوجرنوالہ ہی کے اسپتال میں دم توڑ گئے جب کہ 13 کو لاہور منتقل کیا گیا جن میں سے دو راستے میں جل بسے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بظاہر نشے کے لیے کھانسی کا شربت پینے والوں نے زائد مقدار میں یہ دوا استعمال کی جس کہ وجہ سے ان کی حالت بگڑی۔ تاہم ڈاکٹر گلزار احمد کہتے ہیں کہ مختلف پہلوؤں سے اس معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کھانسی کا شربت پینے سے ہونی والی ان ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

گزشتہ ماہ لاہور کے علاقے شاہدرہ میں بھی کھانسی کا شربت پینے سے کم از کم 19 افراد موت کا شکار ہوئے تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا لیکن تاحال رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی ہے۔

لیکن لاہور میں ہلاک ہونے والے بیشتر افراد نشے کے عادی تھے جنہوں نے اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے زائد مقدار میں شربت پیا تھا۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ کھانسی کا شربت فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹورز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جن میں سے بعض کو سیل بھی کیا گیا ہے۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ دوا تیار کرنے والی فیکٹریوں میں بھی معائنہ کار بھیجے گئے ہیں اور حقائق جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG