رسائی کے لنکس

اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے وابستہ سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر ظفر جسپال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکام اقتصادی راہداری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جب کہ دہشت گرد ماضی کی نسبت اب آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث ماضی کی نسبت امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور دہشت گرد واقعات کی تعداد میں کمی تو ہوئی ہے لیکن ان کی شدت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رواں برس اب تک ملک کے مختلف حصوں میں متعدد دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے لیکن مبصرین کے بقول خاص طور پر جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں حالیہ تین مہینوں کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مزید مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔

اگست میں کوئٹہ میں سول اسپتال کے باہر ایک خودکش بم دھماکے میں 70 سے زائد افراد مارے گئے جن میں اکثریت وکلا کی تھی جب کہ گزشتہ ماہ کے اواخر میں کوئٹہ کے نواح میں پولیس کے ایک تربیتی مرکز پر حملے میں 60 سے زائد زیر تربیت اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔

ہفتہ کو بلوچستان کے ہی ضلع خضدار میں ایک مزار پر ہونے والے مشتبہ خودکش بم دھماکے میں 54 افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے۔

حکام ان واقعات کو دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جاری کارروائیوں کا ردعمل قرار دینے کے علاوہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پیچھے وہ بیرونی طاقتیں ہیں جو چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔

لیکن ملک کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ ایسی تمام کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے اس منصوبے کو ہر قیمت پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

مبصرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے لیکن ان کے بقول شدت پسندوں کے معاونین کو ختم کیے بغیر اس عفریت پر پوری طرح قابو پانا مشکل ہے۔

اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے وابستہ سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر ظفر جسپال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکام اقتصادی راہداری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جب کہ دہشت گرد ماضی کی نسبت اب آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 15 سالوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دہشت گردی پر قابو پایا جا چکا ہے کیونکہ "لشکر جھنگوی جیسے بنیاد پرست عناصر اب بھی موجود ہیں جو کہ درباروں پر حملے کرتے رہے ہیں۔"

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری رضوی کے خیال میں حکومت دیگر سیاسی معاملات میں الجھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف اس کی توجہ تقسیم دکھائی دیتی ہے۔

"نیکٹا کے لیے سویلین ادارے کام کرتے ہیں انٹیلی جنس ادارے کام کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی حکومتوں کے اپنے اتنے مسائل ہیں کہ ان سے انھیں فرصت نہیں ملتی لہذا جتنی تقریریں بھی ہوتی ہیں اس کی نسبت کم توجہ دی جاتی ہے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے تو یہ کمی یا خامی ہمیں واضح طور پر نظر آتی ہے۔"

ظفر جسپال کے نزدیک دہشت گردی سے چھٹکارا پانے کے لیے مربوط کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔

"انسداد دہشت گردی کی فورس جسے آپ کہتے ہیں وہ ابھی تک نظر نہیں آئی اس میں انٹیلی جنس بھی شامل ہے اور باقی چیزیں بھی تو وہ تو ان (حکومت) کو کرنا پڑے گا انھیں ایسے ماڈل پر کام کرنا ہو گا جس طرح امریکہ میں ہوم لینڈ سکیورٹی ہے یہاں کا نیکٹا ہے، نیکٹا کو فعال کرنا پڑے گا۔"

نیکٹا کا ادارہ انسداد دہشت گردی و انتہا پسندی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

حکومت نے دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی لائحہ عمل بھی ترتیب دے رکھا ہے لیکن اس پر بھی پوری طرح سے عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات گاہے گاہے سامنے آتی رہتی ہیں۔

تاہم حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور ملک کو دہشت گردی و انتہا پسندی سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG