رسائی کے لنکس

پارلیمان ججوں کی تقرری سے متعلق آئینی شق کا جائزہ لے


پارلیمان ججوں کی تقرری سے متعلق آئینی شق کا جائزہ لے

پارلیمان ججوں کی تقرری سے متعلق آئینی شق کا جائزہ لے

سپریم کورٹ نے پارلیمان کو اٹھارویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق شق پر دوبارہ غوروخوض کرنے کو کہا ہے۔

جمعرات کو اِس آئینی ترمیم کی بعض متنازع شقوں کے خلاف دائر درخواستوں پر عدالت عظمیٰ کا عبوری فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ پاکستان کی ملکی، عدالتی اور آئینی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی قانون، جو کوئی عام قانون نہیں بلکہ ایک آئینی ترمیم تھی، پر معاشرے کے مختلف شعبوں بشمول بااثر وکلاء تنظیموں نے اعتراضات کا اظہار کیا۔

آئینی ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی سفارشات کو منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایک پارلیمانی کمیٹی کو دیا گیا ہے جو آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ یہ ترمیم پارلیمان نے اس سال اپریل میں متفقہ طور پر منظور کی تھی لیکن اس میں ججوں کی تعیناتی کے لیے وضع کیے گئے نئے طریقہ کار پر آئینی اور قانونی ماہرین کو سب سے زیادہ اعتراض تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ججوں کی تقرری کا نیا طریقہ کار حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے درمیان شدید تناؤ کا باعث بنا ہوا تھا لیکن سپریم کورٹ کے ’تاریخی فیصلے‘ نے ان کے درمیان تصادم کی سی صورتحال سے متعلق خدشات کو دور کر دیا ہے۔

کمرہ عدالت میں فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار چودھری کا کہنا تھا کہ پارلیمان اور عدلیہ دونوں لازمی اور ناگزیر ادارے ہیں، اور یہ ایک دوسرے کے مد مقابل نہیں بلکہ ایک منصفانہ معاشرے اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

ان کے مطابق”ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیئے کہ بحیثیت قوم ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں جس میں ہمیں مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے اور اِن کا مقابلہ صرف ایسے اقدامات سے کیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد اجتماعی معاشرتی مشاورت پر رکھی گئی ہو۔“

سپریم کورٹ نے اس معاملے کی آئندہ عدالتی کارروائی جنوری 2011ء کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کا ایک اجلاس (فائل فوٹو)

قومی اسمبلی کا ایک اجلاس (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ میں اس ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو پارلیمان کا رْکن نہ ہونے کے باوجود پارٹی کے منتخب ارکان کو برطرف کرنے کا اختیار،پارٹی کے اندر انتخابات کی شرط ختم کرنے اور شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختون خواہ رکھنے سے متعلق شقوں کو بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قراردیا گیا تھا۔

جمعرات کو سنائے گئے عبوری فیصلے میں ان متنازع شقوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

عدالت عظمیٰ میں اٹھارویں ترمیم کے خلاف مجموعی طور پر 22 آئینی درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں 17رکنی بڑے بینچ نے 24مئی سے مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کے بعد50سے زائد سماعتوں کے بعد 30 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران سرکاری وکلاء کی طرف سے عدالتی کمیشن کا سربراہ ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی تعیناتی پر اعتراض کیا گیا لیکن سترہ رکنی بینچ نے اسے مسترد کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG