رسائی کے لنکس

عدلیہ کے اعتراضات دور کرنے میں تاخیر پر حکومت کو انتباہ


عدالت عظمٰی (فائل فوٹو)

عدالت عظمٰی (فائل فوٹو)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کی طرف سے صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی بحالی کے لیے سوئس حکام کے نام مجوزہ خط کا مسودہ مسترد کرتے ہوئے عدلیہ کی حکم عدولی پر وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ چلانے کا انتباہ کیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رُکنی بینچ نے بدھ کو این آر او عملدرآمد مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر قانون کے تیار کردہ خط کے مسودے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور مسودے میں ترامیم کے لیے اُنھیں 5 اکتوبر تک مہلت دے دی۔

جسٹس کھوسہ نے اُنھیں متنبہ کیا کہ اگر خط کے مندرجات پر عدالت کے اعتراضات کو دور کرنے میں مزید تاخیر کی گئی تو سپریم کورٹ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے پر مجبور ہو گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق مجوزہ خط میں حکومت پاکستان کی طرف سے سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کا سوئس حکام کے نام خط واپس لینے کا کہا گیا ہے مگر اس میں صدر زرداری کے خلاف مقدمات کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں۔

مقدمے کی سماعت کے بعد خط کے متن پر عدالت کے اعتراضات کی تفصیلات بتائے بغیر وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے صحافیوں کو بتایا کہ اُنھوں نے جج صاحبان کے اعتراضات پر وزیر اعظم سے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگا جسے منظور کرلیا گیا۔

’’(عدالت کے ساتھ) وجہ نزاع کوئی نہیں ہے اور جو بھی اُن (ججوں) کے مشاہدات ہیں اُن کومدِ نظر رکھ کراس معاملے کو حل کرلیا جائے گا کیونکہ عدالت کے احکام پر عمل کرنا حکومت اور ہر شخص کا فرض ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کا خط کا معاملہ قانون اور آئین کو سامنے رکھ کر حل کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق خط کے مجوزہ مسودے میں وزیر قانون نے آئین کی شق 248 کا ذکر بھی کیا ہے جو صدر مملکت کے خلاف فوجداری کے مقدمات کھولنے کی اجازت نہیں دیتی لیکن سپریم کورٹ نے اس شق پر بھی اعتراض کیا۔
XS
SM
MD
LG