رسائی کے لنکس

اٹھارویں آئینی ترمیم : مقدمے کی سماعت مکمل ، عدالتی فیصلہ محفوظ


عدالت عظمیٰ میں مقدمے کی سماعت (فائل فوٹو)

عدالت عظمیٰ میں مقدمے کی سماعت (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ نے اٹھارویں آئینی ترمیم کی بعض شقوں کے خلاف دائر درخواستوں پرسماعت کے بعد جمعرات کو فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اوریہ نہیں بتایا گیاکہ فیصلہ کب سنایا جائے گا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے سترہ رکنی بینچ نے چار ماہ قبل اس مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تھا۔

اٹھارویں ترمیم کے تحت اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سمیت بعض دیگر شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ترمیم کے تحت ججوں کی تعیناتی کے لیے بنائے جانے والے کمیشن میں اراکین پارلیمنٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے 1973 ء کے آئین کو اصل شکل میں بحال کردیاگیا ہے جو انفرادی شخصیات کی بجائے ملک میں جمہوریت کے استحکام کا باعث بنے گا۔

پارلیمنٹ کی طرف سے اس مقدمے کا دفاع کرنے والے وکیل وسیم سجاد نے جمعرات کو عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ اٹھاوریں ترمیم ملک کی تقریباًتمام سیاسی ،مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کی متفقہ رائے سے مرتب کی گئی اور پارلیمان کا موقف ہے کہ آئین کے تحت عدالت عظمیٰ آئینی شقوں کی تشریح تو کرسکتی ہے اسے ختم یا رد نہیں کرسکتی۔

سینیٹر رضا ربانی کی سربراہی میں پارلیمنٹ کی ایک آئینی کمیٹی نے ایک سو سے زائد شقوں پر مشتمل ملکی آئین کے لیے اٹھارویں ترمیم مرتب کی تھی ۔ پارلیمان سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی اس ترمیم میں صدر مملکت کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اختیار کی وزیراعظم کو منتقلی سمیت ججوں کی تقرری کے طریقہ کار اور صوبائی خودمختاری کے حوالے سے شقیں بھی شامل تھی۔

جوڈیشل کمیشن کے خلاف درخواستیں دائر کرنے والے وکلاء کا موقف ہے کہ عدلیہ آئین میں کی جانے والی کسی بھی ایسی ترمیم کو رد کر سکتی ہے جو آئین کی روح سے متصادم ہو۔

XS
SM
MD
LG