رسائی کے لنکس

پاکستانی فوج کا عدالتی حکم بجا لانا غیر معمولی پیش رفت


پاکستانی فوج کا عدالتی حکم بجا لانا غیر معمولی پیش رفت

پاکستانی فوج کا عدالتی حکم بجا لانا غیر معمولی پیش رفت

پاکستان کے ایک نامور آئینی وقانونی ماہر اور حکمران پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ فوجی قیادت کا عدالت عظمٰی کے سامنے پیش ہوکر ’میمو‘ اسکینڈل پر اپنا موقف پیش کرنا ملک کی تاریخ میں بے نظیر ہے اور جس سے اس تمام معاملے کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ سینیٹر ظفر کی گفتگو کی تفصیلات پیش خدمت ہیں۔

سوال: فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر کی طرف سے تحریری بیانات میمو گیٹ اسکینڈل پر اختیار کیے گئے موقف کی اہمیت کیا ہے؟

ایس ایم ظفر: آرمی اور آئی ایس آئی نے جو جواب دیا ہے وہ تھرو پراپر چینل دیا ہے۔ اس طریقے سے اُنھوں نے جواب دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم کے احترام کو یقینی بنایا ہے اوراُتنی ہی اطلاع دی ہے جتنی اُنھیں معلوم تھی اور جس پر اُنھیں تشویش ہوئی ہے۔ لیکن ساتھ یہ ضرور کہہ دیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ اس چیز کو مناسب سمجھے تو تمام کارروائی کرنے کے لیے شہادت جمع کرنے کا حکم جاری کرے۔ کیوں کہ اس صورت میں ہی معلوم ہو سکے گا کہ سچائی کیا ہے اور حقیقت کیا ہے۔

سوال: کیا یہ تاثر درست ہے کہ فوج کا موقف صدر زرداری اور حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے گا؟

ایس ایم ظفر: لیگل کمپلیکیشنز (قانونی پیچیدگیاں) تو ابھی کوئی واضح نہیں ہیں۔ یہ تو اس وقت پتہ لگے گا کیوں کہ اس صورت ہی میں معلوم ہو سکے گا جب شواہد آجائیں گے اور سپریم کورٹ اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی او یہ دیکھناہوگا کہ کیا وہ واقعی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیشن مقرر کرتی ہے یا نہیں کرتی۔ اگر وہ کمشین مقررکردیا سپریم کورٹ نے تو یقیناً پھر بہت سارے سوالات پیدا ہوں گے۔ حکومت کو اعتراض ہے کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے پر کارروائی کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے اور تمام درخواستیں خارج کردینی چاہیں۔ یہ بھی ایک قانونی مسئلہ ہے بلکہ آئینی مسئلہ ہے اور ممکن ہے سپریم کورٹ کو پہلے یہ عبور کرنا پڑے اور اس پر بحث ضرور ہوگی یہ بحث طلب معاملہ ہے۔

ایس ایم ظفر

ایس ایم ظفر

سوال: لیکن فوج اور حکومت کے متضاد نقطہ نظر سے اداروں کے تصادم کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں؟

ایس ایم ظفر: نقطہ نظر مخلتف ضرور ہیں۔ آرمی کا نقطہ نظر تو یہ ہے کہ ممیو کی موجودگی سے انکار نہیں ہو سکتا اور یہ میمو نا صرف ہے بلکہ اس نے کچھ سفر بھی طے کیا ہے۔ ان دو باتوں سے انکار نہیں ہو سکتا۔ حکومت کا نقطہ نظر ہے کہ وہ اس چیز کو بائی پاس (نظر انداز) کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مسئلے کی اہمیت نہیں ہے کیوں کہ میمو میں جو لکھا اور جن کی جانب سے یہ بات لکھی گئی ہے۔ وہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ آیا وہ قابل اعتبار ہے یا نہیں، یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے یا سپریم کورٹ نے کرنا ہے یہی معاملہ حل طلب ہے۔

سوال: آپ کے خیال میں مقدمے کے دوران متنازع خط کے تانےبانے صدر زرداری سے بھی جا ملیں گے؟

ایس ایم ظفر: ابھی ہم پل تک پہنچے نہیں اور یہ فیصلہ کردیں ابھی کہ بہت سے تانے بانے صدر صاحب تک پہنچ جائیں گے یہ میرے لیے ذرا مشکل سی بات ہے۔ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اشارے ضرور ملتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ لیکن اشارے حقیقت ہیں، شہادت یا ثبوت ہے کہ نہیں یہ میں ابھی کہہ نہیں سکتا۔

سوال: کیا ماضی میں بھی پاکستان کی فوجی قیادت نے عدالت کے سامنے اس طرح کسی معاملے پر اپنا موقف پیش کیا ہے؟

ایس ایم ظفر: بڑا غیر معمولی واقعہ ہوا ہے کہ عام طور پر نا عدالتیں افواج پاکستان کے نمائندگان کو بلاتی رہی ہے اورنا کبھی انھوں نے پیش ہو کر اپنا موقف اس انداز میں پیش کیا ہے جیسا کہ اس کیس میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک تو عدلیہ کی آزادی کا تصور آج کل پاکستان میں موجود ہے اور کوشش یہ ہو رہی ہے کہ اس کا احترام قائم رہے۔ تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس (آزاد عدلیہ کے) تصور کو آرمڈ فورسز نے بھی ملحوظ خاطر رکھا ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG