رسائی کے لنکس

ماورائے آئین اقدام قبول نہیں کیا جائے گا


سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کوئٹہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کوئٹہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔

چیف جسٹس نے کسی ریاستی ادارے کی براہ راست نشان دہی کیے بغیر واضح کیا کہ تمام اداروں کو آئین میں متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ عدلیہ ملک میں کوئی ماورائے آئین اقدام قبول نہیں کرے گی۔

بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کوئٹہ میں منعقدہ ایک تقریب سے جمعرات شب خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ آئین کی بالا دستی یقینی بنائے گی۔

’’اگر اس ملک، عدلیہ، عوام یا پارلیمان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہوئی تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے جو اس کی مخالفت ہو گی ... وہ عدلیہ کی طرف سے ہو گی۔‘‘

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب سپریم کورٹ اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی گشیدگی کے باعث ملک کی طاقتور فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

مگر چیف جسٹس نے کسی ریاستی ادارے کی براہ راست نشان دہی کیے بغیر واضح کیا کہ تمام اداروں کو آئین میں متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔

اُنھوں نے جج صاحبان، وکلا، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ ملک میں کسی غیر آئینی اقدام کی اجازت نا دیں۔
XS
SM
MD
LG