رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن کو بھی اس ضمن میں نادرا کو مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 110 میں ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کا حکم دیا ہے۔

سیالکوٹ کے اس حلقے سے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے مئی 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف کے عثمان ڈار کو شکست دی تھی جنہوں نے بعد میں یہاں دھاندلی کا الزام عائد کیا۔

عثمان ڈار نے اس مبینہ دھاندلی کی شکایت الیکشن ٹربیونل میں درج کروائی جسے کارروائی کے بعد ٹربیونل نے مسترد کر دیا تھا۔

چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ تصدیق کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔ منگل کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں اس معاملے کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ نے شہریوں کے کوائف جمع کرنے والے قومی ادارے نادرا کو ہدایت کی کہ وہ حلقہ این اے 110 کے ووٹوں کی تصدیق کا عمل شروع کرے اور تین ماہ میں اپنی رپورٹ میں عدالت میں پیش کرے۔

الیکشن کمیشن کو بھی اس ضمن میں نادرا کو مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نادرا اس حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کے صحیح یا غلط کا فیصلہ ’نشان انگوٹھا‘ کی مدد سے کرے گا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مئی 2013ء میں ہونے والے انتخابات میں قومی اسمبلی میں تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی تھی اور اس کا موقف رہا ہے کہ مسلم لیگ ن مبینہ طور پر دھاندلی کر کے اقتدار میں آئی۔

پی ٹی آئی نے دھاندلی کو بنیاد بنا کر تقریباً چار ماہ تک حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا لیکن پھر اس الزام کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن کی تشکیل پر دونوں فریقوں کا اتفاق ہو گیا۔

عدالتی کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے گزشتہ سال پیش کی گئی رپورٹ میں اس الزام کو مسترد کیا کہ مسلم لیگ منظم دھاندلی کر کے انتخابات جیتی لیکن رپورٹ میں انتخابی باضابطگیوں کو تذکرہ ضرور کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG