رسائی کے لنکس

تھر کے تمام متاثرین تک رسائی کے لیے مزید دس دن چاہیئں: سندھ حکومت


ایڈوکیٹ جنرل عبدالفتح ملک کہتے ہیں کہ ’’اگر تھر میں آپ جائیں تو وہاں لوگ کھانے نہیں مانگتے، پانی مانگتے ہیں کیونکہ ان کا پانی بہت کڑوا ہے اور زیر زمیں بہت دور ہے۔ انگریز کے زمانے میں ہر ٹرین کے ساتھ دو بوگیاں پانی کی وہاں جاتی تھیں۔ اب وہ ختم ہو چکا ہے۔‘‘

سندھ حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود تھر کے صحرائی علاقے میں خشک سالی سے متاثرہ آبادی کو مکمل طور پر امدادی اشیاء کی فراہمی میں مزید ایک ہفتے سے زائد وقت لگے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کو سندھ حکومت کے عہدیداروں نے پیر کو سماعت کے دوران نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل عبدالفتح ملک کا کہنا تھا ’’کئی گندم کے تھیلے وہاں بھیجے ہیں، تقسیم ہوئے ہیں، آرمی اور دیگر اداروں نے بھی تقسیم کیے ہیں۔ پانی کا بھی بندوبست ہو گیا ہے۔ اب وہ مسئلہ نہیں ہے لیکن ابھی بھی ہر گھر تک پہنچنے کے لیے ہمیں دس دن مزید چاہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ تھرپارکر میں ہونے والی ہلاکتیں ’’غذائی قلت‘‘ سے ہوئی ہیں۔

سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ تھرپارکر میں خشک سالی سے متعلق اقوام متحدہ کی پیش گوئی اور حکومت کی طرف سے اس پر کیے جانے والے اقدامات کی ایک جامع رپورٹ آئندہ دو دن میں عدالت میں پیش کریں۔

صوبائی عہدیداروں کے مطابق تھر کے ریگستانی علاقے میں خشک سالی سے تقریباً اڑھائی لاکھ کی آبادی متاثر ہوئی ہے جبکہ بچوں سمیت درجنوں افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ سرکاری عہدیداروں اور ماہرین کے مطابق اس وقت غذائی امداد کی فراہمی عارضی حل ہے اور مستقل میں اس طرح کی سنگین صورتحال سے بچنے کے لیے پڑوسی ملک بھارت کی طرح حکومت کو تھرپارکر کے صحرائی علاقے میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔

’’اگر تھر میں آپ جائیں تو وہاں لوگ کھانے نہیں مانگتے، پانی مانگتے ہیں کیونکہ ان کا پانی بہت کڑوا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ تھرپارکر میں کوئلہ سے بجلی بنانے کے مجوزہ منصوبے کی وجہ وہاں شاید حکومت نہر نکال لے۔

’’تھر کول پراجیکٹ کے لیے تو ہم وہاں جائیں گے، آپ جائیں گے، دنیا جائے گی تو حکومت ہو سکتا ہے ایسا کر لے۔‘‘

عبدالفتح ملک نے عدالت کو بتایا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو خشک سالی سے متعلق اقدامات کرنے کی پیشگی ہدایت دے دی تھی جس میں عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔

تھرپارکر میں طبی سہولتوں سے متعلق عبدالفتح ملک کا کہنا تھا۔

’’وہاں سب کچھ ہے، اسپتال ہیں مگر ہیلتھ افسر کاغذوں میں ہیں۔ بیٹھتے نہیں، کراچی بھاگ آتے ہیں۔ حکومت نے شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں مگر عدالتیں فوری اس پر عمل درآمد روکنے کا حکم کر دیتی ہیں۔ وزیراعلیٰ اب وہاں ہیں تو سب ہیں جیسے ہنگامی، بحران کی صورتحال ختم ہوگی میرے خیال میں یہ بھاگ آئیں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی 18 کروڑ آبادی میں سے تقریباً نصف غذائی قلت کا شکار ہے اور زرعی ملک ہونے کے باوجود یہاں آبادی کی غذائی اجناس تک رسائی سب سے بڑا مسئلہ ہے جو کہ غذائی قلت کا سبب ہے۔
XS
SM
MD
LG