رسائی کے لنکس

عدالت عظمٰی: وزیراعظم پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ


عدالت عظمٰی: وزیراعظم پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

عدالت عظمٰی: وزیراعظم پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم 13 فروری کو عائد کی جائے گی۔

وکیل صفائی اعتزاز احسن نے جمعرات کو اس مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

“فیصلہ ہوا ہے کہ عدالت نے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کی فردجرم مرتب کرنے کا حکم دیا ہے جو 13 تاریخ کو فریم ہوگا اور وہ عدالت میں موجود ہوں گے۔”

اعتزاز احسن نے بالواسطہ طور پر عدلیہ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کواُن فوجی جرنیلوں کے خلاف بھی توہین عدالت کا نوٹس لینا چاہیے جنہوں نے آئین کی خلاف ورزیاں کیں۔

’’انھوں نے ججوں کو صرف برخواست ہی نہیں کیا نظر بند کیے رکھا۔ صرف سویلین ادارے اور ہر وزیر اعظم توہین عدالت کا مرتکب پایا جاتا ہے ۔ جب کہ یہ اسٹیبلیشمنٹ والے اور فوجی آرمی چیفس بہت بڑے گھناؤنی توہین عدالت کرتے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم کے وکیل نے عدلیہ کے فیصلے کے تناظر میں کہا کہ’’ ریاستی اداروں کے مابین تناؤ کھنچاؤ کی تشویش ہے اوراس سے فائدہ کوئی تیسرا فریق نہ لے جائے مجھے اس کا اندیشہ تھا اور ملک کے لیے مسئلہ ہوگا اگر ایسا ہوا‘‘۔

اعتزاز احسن

اعتزاز احسن

اعتزاز احسن اور دیگر نامور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد بھی وزیراعظم اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں تاوقتیکہ عدالت عظمٰی کی طرف سے انھیں سزا نہ سنا دی جائے۔

مروجہ قوانین کے تحت توہین عدالت کے جرم کی سزا چھ ماہ قید اور پارلیمان کی رکنیت سے نااہلی ہوسکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے دو سال قبل قومی مصالحتی آرڈینینس یا این آر او کو کالعدم قراردیتے ہوئے اس سے مستفید ہونے والے لگ بھگ آٹھ ہزار افراد کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید برآں عدالتی فیصلے میں حکومت کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف ماضی کے حکمرانوں کی طرف سے دائر اُن مقدمات کو بھی دوبارہ کھلوانے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھے جو این آراو کے تحت واپس لے لیے گئے تھے۔

لیکن پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کے وزیر اعظم گیلانی اور ان کے قانونی مشیر یہ کہہ کر سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کرتے رہے کہ صدر مملکت کو فوجداری مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہے۔

حکومت کی طرف سے عدالت کے فیصلے کی مسلسل حکم عدولی پر سپریم کورٹ نے رواں ماہ کے اوائل میں وزیر اعظم کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں 19 جنوری کوسات رکنی بینچ کے سامنے پیش ہونے کا حکم جاری کیا جسے وہ بجا لائے۔ مگر مسٹر گیلانی اور ان کے وکیل عدالت عظمٰی کے سامنے اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔

جمعرات کی شب قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ وہ عدلیہ کے طلب کرنے پر پہلے بھی سرپیم کورٹ کے سامنے پیش ہو چکے ہیں اور عدلیہ کے تازہ احکامات کی بھی پاسداری کی جائے گی۔

بدھ اور جمعرات کو اس مقدمے کی مزید سماعت کے بعد عدالت نے وزیر اعظم پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے 13 فروری کو اُنھیں خود بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG