رسائی کے لنکس

نااہلیت کے خلاف گیلانی کی نظرثانی کی درخواست


یوسف رضا گیلانی (فائل فوٹو)

یوسف رضا گیلانی (فائل فوٹو)

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا فیصلہ بحیثیت وزیراعظم کیا تھا اور ان کا اس وقت بھی یہی موقف تھا کہ صدر مملکت کو استثنیٰ حاصل ہے۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی نااہلیت کے عدالتی فیصلے کے خلاف ہفتہ کو عدالت عظمیٰ میں نظر ثانی دائر کی ہے۔

یوسف رضا گیلانی کو گزشتہ سال 19 جون کو عدالت عظمیٰ نے سوئس حکام کو مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط نہ لکھنے پر نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے باعث انھیں وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ عدالتی فیصلے میں انھیں آئندہ پانچ سال تک کسی بھی انتخاب میں حصہ لینے یا عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

ہفتہ کو سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا فیصلہ بحیثیت وزیراعظم کیا تھا اور ان کا اس وقت بھی یہی موقف تھا کہ صدر مملکت کو استثنیٰ حاصل ہے۔

’’ اس وقت کے مطابق پارٹی کا فیصلہ، لیگل ٹیم کا یہ مشورہ تھا اور پھر کچھ لچک حکومت نے دکھائی اور کچھ عدالت نے تو خط لکھ دیا گیا۔‘‘

یوسف رضا گیلانی کے بقول انھیں سزا ذاتی حیثیت میں ملی اور وہ اسی لیے ذاتی حیثیت میں ہی نظر ثانی کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔

یوسف رضا گیلانی حکمران پیپلز پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین ہیں اور ان کا حلقہ انتخاب ملتان ہے۔

گزشتہ سال ان کی نااہلی کے بعد حکمران اتحاد نے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم مقرر کیا تھا جنہوں نے طویل قانونی مشاورت اور عدالت کی طرف سے توہین عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس کے بعد سوئس حکام کو خط لکھنے کی ہدایت کی تھی۔
XS
SM
MD
LG