رسائی کے لنکس

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں درخواست کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ نے منگل کو پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے رائے طلب کی ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں ممکنہ ماورائے آئین اقدام کے خلاف دائر درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر اس مسئلے کا حل نکالا جائے اور اسے عدالتی حکم کا حصہ بنایا جائے۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں درخواست کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ نے منگل کو پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے رائے طلب کی ہے۔

گزشتہ ماہ کے وسط سے پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک وزیراعظم نوازشریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم مستعفی ہونے سے انکار کر چکے ہیں جب کہ پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتیں بھی احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر چکی ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے احتجاج کرنے والی جماعتوں سے بھی اس معاملے کے حل کے لیے تجاویز طلب کی تھیں لیکن پاکستان عوامی تحریک کے وکیل نے یہ کہہ کر تجاویز جمع نہیں کروائیں کہ ان کے موکل کا موقف ہے کہ یہ سیاسی معاملہ ہے اور سیاسی معاملات عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں بینچ کے رکن جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ موجودہ حالات میں ملکی سالمیت کو خطرہ لاحق ہے لہذا اس معاملے کے حل کے لیے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے جج کے ان ریمارکس کے بعد بھی مختلف حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ آیا عدالت اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہے یا نہیں۔

سینیئر قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ معاملہ اب کسی بھی طرح سیاسی نہیں رہا اور سپریم کورٹ آئین و قانون کے مطابق اس کے حل کے لیے حکم دے سکتی ہے۔

"یہ سیاسی معاملہ نہیں ہے یہ امن و امان کا معاملہ ہے۔۔۔دھرنا دینا آئینی حق ہے لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ آئین سے بغاوت ہے۔۔۔ عدالت کے پاس درخواستیں آئی ہیں جب آئینی درخواست دائر کی جاتی ہے تو آئین و قانون کے مطابق جو بھی ہے وہ عدالت فیصلہ دے گی۔"

ہفتہ کو دیر گئے احتجاج کرنے والوں کی طرف سے وزیراعظم ہاؤس کی طرف جانے کی کوششوں کے دوران پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں تین افراد ہلاک اور پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں درجنوں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

پیر کو مظاہرین نے پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر بھی ہلہ بول دیا تھا جنہیں فوج اور رینجرز نے عمارت سے نکالا۔

یاسین آزاد کا کہنا تھا کہ آئین میں عدالت عظمیٰ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس قسم کی صورتحال سے متعلق اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے فوج سے بھی کہہ سکتی۔

"اگر عدالت کوئی حکم دیتی ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جاتا تو عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت وہ فوج سے کہہ سکتی ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد کروائے، آئین راستہ دیتا ہے۔"

دریں اثناء چیف جسٹس ناصر الملک نے پاکستان تحریک انصاف سے کسی بھی طرح کے تعلق کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے صرف ایک ہی بار ملاقات ہوئی اور وہ بھی اس وقت جب وہ الیکشن کمیشن کے قائم مقام سربراہ تھے اور عمران خان ان سے ملنے اپنی جماعت کے دیگر افراد کے ہمراہ وہاں آئے تھے۔

بعد ازاں اس درخواست کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔

XS
SM
MD
LG