رسائی کے لنکس

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی تقرری سپريم کورٹ ميں چيلنج


فصیح بخاری کی وزیراعظم گیلانی سے ملاقات

فصیح بخاری کی وزیراعظم گیلانی سے ملاقات

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کی تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی ہے۔ چیئرمین نیب کو کام سے فوری طور پر روکنے کے لیے الگ درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں ہفتے کو سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں چودھری نثار نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیئر مین نیب کی تقرری میں قانونی تقاضے پورے نہيں کئے گئے ہیں اور اس ضمن میں صدر آصف علی زرداری کی طرف سے انہیں لکھا گیا خط مشاورت کی محض رسمی کارروائی تھی۔

درخواست میں چودھری نثار نے کہا ہے کہ صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کی جانب سے چئیرمین نیب کے عہدے کے لیے تقرری سے قبل تین نام بھیجنے کی تجویز کا جواب نہیں دیا۔ جبکہ اس سلسلے چيف جسٹس سے بھی مشاورت نہيں کی گئی۔

قائد حزب اختلاف کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک الگ درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین نیب کو فوری طور پر کام سے روکا جائے۔

تاہم حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ ق کے رہمنا اور ماہر قانون دان سینیٹر ایس ایم طفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ احتساب کے موجودہ قانون کے تحت نیب کے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا’’ آئین اور قانون کے مطابق چیئرمین کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان بامعنی مشاورت ضروری ہے موجودہ حکومت قانون کی گنجائش دیکھ رہی ہے جبکہ اپوزیشن میثاق جمہوریت کے تحت بضد ہے کہ چیف جسٹس کی مشاورت ہو اور جو شخص بھی منتخب کیا جائے وہ یا تو سپریم کورٹ کا موجودہ یا ریٹائرڈ جج ہو یا پھر قانونی تجربہ رکھتا ہو لیکن میثاق جمہوریت کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے‘‘۔

چودھری نثار علی خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ميں فصیح بخاری کی تقرری مسترد کرنے کی 23 وجوہات بیان کی گئی ہیں اور اس میں وفاقی حکومت کے علاوہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور فصیح بخاری کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

چیئرمین نیب کے خلاف درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر آصف زرداری پربدعنوانی کے مقدمات ہيں اور وہ ايک سیاسی جماعت کے شريک چئيرمين بھی ہيں۔ ان حالات میں وہ چيئرمين نيب کی منصفانہ تقرری نہيں کر سکتے۔

اس سے قبل نیب کے سابق چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کی تعیناتی کے خلاف بھی چودھری نثار نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی درخواست پر استداعا کی تھی کہ وہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کا حصہ رہ چکے ہیں اس لیے ان کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے عدالت عظمی نے مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ چودھری نثار کے حق میں سنایا تھا۔

صدر آصف علی زرداری نے ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کو رواں ماہ چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا اور انہوں نے چند روز قبل ہی اپنے عہدے کا چارج سنھبالا ہے۔

XS
SM
MD
LG