رسائی کے لنکس

تنقیدی خط پر چیئرمین نیب کو توہین عدالت کا نوٹس جاری


فصیح بخاری

فصیح بخاری

عدالت عظمیٰ نے چیئرمین نیب کو 4 فروری کو عدالت میں پیش ہوکر اپنا جواب دینے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے قومی احساب بیورو (نیب) کے چیئرمین فصیح بخاری کے عدالت اعظمیٰ سے متعلق تنقیدی خط کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت اعظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اپنے احکامات میں کہا کہ یہ خط عدالت کو بدنام کرنے اور عوام میں عدلیہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

عدالتی حکم پڑھتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ کسی کو عدالت اعظمیٰ کی آئینی حیثیت کو کم کرنے اور اس کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

عدالت کی جانب سے نیب کے وکیل کریم خان آغا سے پوچھا گیا کہ چیئرمین فصیح بخاری کا صدر مملکت کو خط بھیجنے کا کیا مقصد تھا۔ مگر نیب پراسیکیوٹر جنرل نے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین خود ہی اس کا جواب دے سکیں گے۔ ’’میں کسی دوسرے شخص کا ذہن نہیں پڑھ سکتا۔‘‘

تاہم انہوں نے عدالت سے کہا کہ بظاہر فصیح بخاری محسوس کررہے تھے کہ سپریم کورٹ ان کے اختیارات میں مداخلت کررہی ہے۔

چیئرمین نیب نے رواں ہفتے صدر آصف علی زرداری کو لکھے گئے ایک خط میں سپریم کورٹ پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کے اختیارات اور نیب کی تحقیقات میں فصیح بخاری کے بقول غیر ضروری مداخلت کررہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں عدالت اعظمیٰ نیب کو ایسی مخصوص تحقیقات کرنے کا کہہ رہی ہے جس میں سیاست دان ملوث ہوں۔

سابق ایڈمرل فیصح بخاری نے اسے ’’قبل از انتخابات دھاندلی‘‘ قرار دیا تھا۔

عدالت نے چیئرمین نیب کو 4 فروری کو عدالت میں پیش ہوکر اپنا جواب دینے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے یہ بھی ہدایت دی کہ مقننہ یا پاکستانی فوج اس خط کو بنیاد بنا کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے مئی میں متوقع انتخابات تاخیر کا شکار ہوں اور جمہوری نظام پٹڑی سے اتر جائے۔

ان کا کہنا تھا کہا کہ جمہوریت کے ختم ہونے سے متعلق خدشات نہیں ہونے چاہیئں۔
سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے قانونی اور آئینی ماہر خالد انور نے کہا کہ کورٹ کی جانب سے انتخابات سے متعلق احکامات کا مقصد اس تاثر کو رد کرنا تھا کہ عدلیہ جمہوری نظام کا خاتمہ چاہتی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سول بلکہ ملٹری کو تنبیہہ تھی کہ وہ کوئی غیر آئینی قدم نہ اٹھائیں اور جمہوری عمل کو جاری رکھا جائے۔‘‘

قومی احتساب بیورو کے سربراہ نے صدر کو خط ایک ایسے وقت لکھا جب سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبے میں مبینہ مالی بدعنوانی پر نیب کو وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سمیت 16 افراد کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔
XS
SM
MD
LG