رسائی کے لنکس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) عمل درآمد کیس میں 12 جولائی کے عدالتی فیصلے پر وفاق کی دائر کردہ نظر ثانی کی درخواست کی سماعت شروع کر دی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

بدھ کو عدالتی کارروائی کے آغاز پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بینچ سے استدعا کی کہ درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے اور اس کی سماعت عید الفطر کے بعد تک ملتوی کر دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ قواعد کے مطابق جس بینچ نے فیصلہ دیا ہوتا ہے اسے ہی نظر ثانی کی سماعت کرنی چاہیئے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کوئی عدالت وزیر اعظم کو اپنے فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت نہیں دے سکتی، آئین کے مطابق وزیر اعظم کو کسی بھی مقدمے میں فریق نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہی وزیر اعظم کسی عدالت کو جوابدہ ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ آئین وزیر اعظم سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ عدالتی حکم مانیں۔

اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو آئین کے آرٹیکل 248 کی شق 1 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

جسٹس عثمانی نے کہا کہ کیا آرٹیکل 248 کا مطلب ہے کہ وزیراعظم عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کریں۔ ’’اب آئین کی تشریح وزیر اعظم کریں گے یا ہم۔‘‘ بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت کوئی تشریح کرے تو کون فیصلہ کرے گا کہ آئین کے مطابق ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ آئین کرے گا۔ ان کے بقول وزیراعظم کو اپنے دفتری کاموں پر مکمل تحفظ حاصل ہے اور عدالت وزیراعظم سے رپورٹ نہیں مانگ سکتی۔

عرفان قادر نے بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ذہن بن چکا ہے کہ آپ کا فیصلہ حرف آخر ہوتا ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ آئین کی تشریح صرف عدالت کر سکتی ہے جب کہ وزارت قانون کو بھی یہ اختیار حاصل ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں چھ آپشنز بھی دیے تھے اور کہا گیا تھا کہ آخری ذمہ داری وزیر اعظم کی ہوگی۔ حکومت آپشن والے فیصلے پر نظر ثانی کرواتی تو آج ایسی مشکل نہ ہوتی۔

نظرِثانی کی اپیل پر آئندہ سماعت جمعرات کو ہوگی۔

عدالت عظمیٰ نے 12 جولائی کو اپنے حکم نامے میں ہدایت کی تھی کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف صدر زرداری کے خلاف مبینہ بد عنوانی کا مقدمہ بحال کروانے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھیں۔
XS
SM
MD
LG