رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم "بائیٹس فار آل" کے عہدیدار شہزاد احمد کا کہنا ہے لوگوں کو ذمہ دارانہ طریقے سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی آگاہی پر کام کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی ایک عدالت نے حکام کو سوشل میڈیا سے توہین مذہب پر مبنی مواد ہٹانے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا ہے۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس اطہر محمود نے داخلہ اور اطلاعات کی وزارتوں کے حکام سمیت متعلقہ محکموں کے عہدیداروں کو یہ مواد ہٹا کر چار ماہ میں رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

سوشل میڈیا پر توہین مذہب پر مبنی مواد ہٹانے کے لیے یہ کوئی پہلا عدالتی حکم نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی حکام کو ایسے ہی احکامات جاری کیے تھے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خصوصاً فیس بک پر ایسے مواد کا معاملہ زیادہ شدت کے ساتھ اس وقت حکومت کی توجہ کا مرکز بنا جب رواں سال کے اوائل میں اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے چار مختلف بلاگرز اچانک لاپتا ہوئے اور ان کے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ دعوے سامنے آئے کہ یہ افراد سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر توہین آمیز سرگرمیوں میں متحرک تھے۔

پراسرار طور پر لاپتا اور پھر اچانک اپنے گھروں کو لوٹ آنے والے یہ بلاگرز ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔

توہین آمیز مواد کو روکنے کے لیے حکومت نے نہ صرف مسلمان ملکوں کے سفرا سے رابطہ کر کے انھیں اس بارے میں ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینے کا کہا بلکہ حکام نے فیس بک کے ساتھ بھی اس بابت رابطوں میں اضافہ کیا۔

ایسے میں انٹرنیٹ صارفین کی طرف سے توہین مذہب سے متعلق مواد کی مذمت تو کی جاتی رہی لیکن ایسے خدشات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ حکام اس کی آڑ میں انسانی اور شہری حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

لیکن حکام ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ توہین مذہب کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

وفاقی وزارت داخلہ کے حکام اسلام آباد ہائی کورٹ کو یہ بتا چکے ہیں کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سے 85 فیصد توہین آمیز مواد ہٹایا جاچکا ہے جب کہ ایسی درجنوں ویب سائٹس بھی بلاک کی گئی ہیں۔

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم "بائیٹس فار آل" کے عہدیدار شہزاد احمد کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر پابندی یا چیزوں کی چھان پھٹک ایسے مسائل کا دیرپا حل نہیں۔

ان کے بقول لوگوں کو ذمہ دارانہ طریقے سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی آگاہی پر کام کیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ایک آگاہی مہم چلائے جس میں لوگوں کو گستاخانہ مواد کی اشاعت یا ترویج پر قانون اور اس میں دی گئی سزا کے بارے میں بتایا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG