رسائی کے لنکس

’آئین صدر کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا‘

  • افضل رحمن

صدر زرداری کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کا اجلاس (فائل فوٹو)

صدر زرداری کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کا اجلاس (فائل فوٹو)

صدر آصف علی زرداری کے دو عہدوں کے خلاف دائر درخواستوں پر جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے تحت صدر پاکستان کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔

عدالت نے اس توقع کا اظہار بھی کیا صدر مملکت جتنی جلدی ممکن ہوا خود کو سیاسی عہدے سے الگ کر لیں گے کیوں کہ عدالت عالیہ کا کہنا تھا کسی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں کے لیے ایوان صدر کا استعمال صدر مملکت عہدے کے وقار اور اس عہدے کی غیر جانبدار حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

صدر آصف زرداری کے بیک وقت صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے عہدوں اور ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیوں کے خلاف پاکستان لائیرز فورم نے درخواست دائر کی تھی۔

اس مقدمے میں صدر زرداری کے وکیل طالب رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس مقدمے کی ابتدائی سماعت کے موقع پر اُنھوں نے نکتہ اُٹھایا تھا کہ عدالت پہلے یہ فیصلہ کرے کہ آیا اس نوعیت کا مقدمہ اُس کے دائرہ عمل میں آتا بھی ہے یا نہیں۔ لیکن طالب رضوی کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ نے اُن کے اس موقف کو مستر د کر دیا تھا۔

طالب رضوی نے بتایا کہ اُن کے قانونی اعتراضات کو سننے سے انکار کے بعد اُنھوں نے اس مقدمے کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ آئین کے مطابق صدر ایسا عہدہ نہیں رکھ سکتے جس سے اُنھیں مالی فائدہ پہنچتا ہو۔ ”صدر صاحب کے دوسرے عہدے کے بارے میں آج تک کسی نے نہیں کہا کہ انھیں اس سے کوئی مالی فائدہ پہنچ رہا ہے“۔

اُنھوں نے اس کو ’غیر جانبدارانہ ‘ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو اس مقدمے کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے اور وہ اپنے حق کو استعمال کریں گے۔

دسمبر 2007ء میں پیپلز پارٹی کی رہنماء بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعدآصف علی زرداری نے پارٹی کی قیادت سنھبالی تھی اور بعد ازاں صدر کا انتخاب جیتنے کے بعد سے دونوں عہدے اُن کے پاس ہیں۔

XS
SM
MD
LG