رسائی کے لنکس

ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ


ممتاز قادری (فائل فوٹو)

ممتاز قادری (فائل فوٹو)

اس اپیل کی سماعت کے دوران بینچ یہ ریمارکس دے چکا ہے کہ کسی بھی صورت میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔

پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

بدھ کو اپیل کی سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ کے سامنے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل اور اس معاملے میں سرکاری وکیل میاں عبدالرؤف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سلمان تاثیر کے خلاف الزامات کو عدالت میں ثابت کیا جانا چاہیے تھا۔

ان کے بقول قادری کو قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی اختیار نہیں تھا اور ماورائے عدالت قتل کی قانون اور آئین میں کوئی اجازت نہیں۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ مجرم اس قتل کا اعتراف کر چکا ہے اور پولیس نے اس کے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد کیا اور اسی پر مجرم کو موت کی سزا سنائی گئی۔

اس اپیل کی سماعت کے دوران بینچ یہ ریمارکس دے چکا ہے کہ کسی بھی صورت میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جس کے سنائے جانے کے وقت کے بارے کچھ نہیں بتایا گیا۔

ممتاز قادری نے چار جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر کو اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ وہ گورنر کے سرکاری محافظوں میں شامل تھا۔

اس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا جہاں سے اسے اکتوبر 2011ء میں موت کی سزا سنائی گئی۔ اس سزا کے خلاف ممتاز قادری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

XS
SM
MD
LG