رسائی کے لنکس

رمشا کا مقدمہ بچوں کے لیے خصوصی عدالت کو منتقل


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

عدالت نے یکم اکتوبر کو مقدمے کی آئندہ سماعت کے موقع پر رمشا اور اس کے خلاف شواہد میں رد وبدل کرنے کے الزام میں زیر حراست امام مسجد خالد جدون کو بھی طلب کیا ہے۔

پاکستان میں توہین اسلام کی مبینہ مرتکب ایک کمسن عیسائی لڑکی رمشا کے مقدمے کی سماعت جیل میں کرنے کی انتظامیہ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد کے ایک جج نے پولیس کو چارج شیٹ یا چالان ’جوینائل‘ یعنی بچوں سے متعلق قوانین کے تحت تیار کر کے خصوصی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہی عدالت اب یکم اکتوبر کو بطور جوینائل کورٹ عیسائی لڑکی رمشاء مسیح کے خلاف مقدمہ کی سماعت کرے گی۔

آئندہ سماعت پر اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے جج جواد عباس نے رمشا اور اس کے خلاف شواہد میں رد وبدل کرنے کے الزام میں زیر حراست امام مسجد خالد جدون کو بھی طلب کیا ہے۔

مقدمے کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل استغاثہ نے کہا کہ پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں رمشا کو بے گناہ قرار دیا ہے تاہم وہ ثبوت اور شواہد پیش کریں گے۔

اسلام آباد کے نواحی گاؤں میرا جعفرکی رہائشی اس عیسائی لڑکی کو 16 اگست کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے قرآنی آیات پر مبنی صفحات کو نذر آتش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

تاہم تین ہفتوں بعد عدالت کے حکم پر رمشا مسیح کو ضمانت پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ رمشا مسیح کو سخت حفاظت میں اسلام آباد میں اُس کے خاندان کے ہمراہ کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

عدالت میں جمع کرائی گئی ایک سرکاری طبی معائنہ رپورٹ کے مطابق رمشا ایک ناخواندہ لڑکی ہے جس کی عمر 13 اور 14 سال کے درمیان ہے اور وہ ڈاؤن سینڈروم بیماری کا شکار ہے جو بچے کی ذہنی نشوونما کو سست کردیتی ہے۔
XS
SM
MD
LG