رسائی کے لنکس

توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ بی بی کی اپیل خارج، سزائے موت برقرار


لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ

آسیہ کو چار برس قبل صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی اور وہ ملک کی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں جنہیں ’توہین رسالت‘ کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی۔

پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے توہین رسالت کی ملزمہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی طرف سے اپنی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں ذیلی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو برقرار رکھا۔

جسٹس انوار الحق اور جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل بینچ نے آسیہ بی بی کی درخواست کی سماعت کی۔

ملزمہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

آسیہ کو چار برس قبل صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی اور وہ ملک کی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں جنہیں ’توہین رسالت‘ کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی۔

آسیہ بی بی کے خلاف 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے علاقے میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے وہاں موجود دیگر خواتین کے ساتھ ہونے والی ایک بحث میں پیغمبر اسلام کی توہین کی۔

آسیہ بی بی کا معاملہ اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے ان سے جیل میں ملاقات کی اور بعد ازاں ان کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم ہونی چاہیئے۔

سلمان تاثیر کو جنوری 2011ء کو اسلام آباد میں ان ہی کے ایک سرکاری محفاظ پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس نے یہ اقدام توہین مذہب سے متعلق گورنر پنجاب کے بیان کی وجہ سے کیا۔

اس کے چند ماہ بعد ہی بین المذاہب ہم آہنگی کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو بھی توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کی تجویز دینے کے بیانات پر نا معلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG