رسائی کے لنکس

پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما اور معروف قانون دان اعتراز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بیٹے پر بدعنوانی کے الزامات سے متعلق دستاویزات دیکھ کر اُنھیں بہت ’’تکلیف اور دکھ‘‘ ہوا۔

چیف جسٹس کے سب سے بڑے بیٹے ارسلان افتخار پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ملکے کے ایک بڑے سرمایہ دار ملک ریاض حسین سے کروڑوں روپے کا مالی فائدہ حاصل کیا۔

اعتزاز احسن نے پیر کو لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ انھیں ملک ریاض نے ارسلان افتخار سے متعلق تمام دستاویزات نہیں دکھائیں۔ ’’میں نے سب کچھ نہیں دیکھا جو چند دستاویزات دیکھیں، جیسے میں نے عرض کیا مجھے تکلیف اور دکھ ہوا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے اور اب عدالت ہی اصل حقائق کا فیصلہ کرے گی۔

’’میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، جو بھی اگر ارسلان نے کیا ہے اس پر دکھ بھی ہے اور یہ اس کا اپنا ہی فعل نظر آتا ہے۔ لیکن اس کے بارے میں کوئی رائے دینا مناسب نہیں ہے کیوں کہ معاملہ زیر سماعت ہے۔‘‘

ارسلان افتخار

ارسلان افتخار

مزید برآں ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے اسلام آباد میں عدالت عظمیٰ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کے موکل عدالت میں سب کچھ کہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

’’میں عدالت سے یہ ہی عرض کروں گا بڑے ادب سے کہ (ملک ریاض) بیمار تھے لیکن بیماری کے باوجود آ رہے ہیں۔ آپ انھیں موقع دے دیجیئے کہ وہ پاکستان پہنچ کر ایک آدھ دن میں اپنا بیان تیار کر لیں وہ (عدالت) کے سامنے پیش کر دیں گے۔‘‘

زاہد بخاری نے اس سے قبل عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض علاج کی غرض سے برطانیہ میں ہیں۔

ارسلان افتخار پر الزام ہے کہ انھیں ملک ریاض نے 30 سے 40 کروڑ روپے دیے جس کا مقصد بحریہ ٹاؤن سے متعلق عدالت عظمیٰ میں زیر التواء مقدمات میں رعایت حاصل کرنا تھا۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے بعد چیف جسٹس نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ ارسلان افتخار اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG