رسائی کے لنکس

زیر التوا مقدمات بدستور ایک چیلنج ہیں، چیف جسٹس


زیر التوا مقدمات بدستور ایک چیلنج ہیں، چیف جسٹس

زیر التوا مقدمات بدستور ایک چیلنج ہیں، چیف جسٹس

پاکستان میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر اسلام آباد میں پیر کو ایک تقریب سے خطاب میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ملک میں بسنے والے تمام افراد تک بلا امتیاز انصاف کی فراہمی اور ان کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ جج صاحبان اور وکلاء کی نمائندہ تنظیموں کے تعاون سے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ عدالتوں میں نئے مقدمات کے اندارج میں اضافہ اور زیر التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد سب کے لیے باعث تشویش ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پرانے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے جون 2009ء میں قومی جوڈیشل پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ جوڈیشل پالیسی کے اعلان سے قبل عدالت عظمیٰ، وفاقی شرعی عدالت، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 18 لاکھ تھی جن میں سے چار لاکھ مقدمات کے فیصلے رواں سال جون تک کر دیے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ ضلعی عدالتوں کی کارکردگی قابل ستائش رہی تاہم اب بھی ذیلی عدالتوں میں 83 فیصد جب کہ اعلیٰ عدالتوں میں 17 فیصد مقدمات زیر التوا ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ججوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے دوران ملازمت ان کی تربیت کا عمل بھی جاری ہے اور رواں سال وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں 26 تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے جن میں 558 ججوں نے حصہ لیا۔

XS
SM
MD
LG