رسائی کے لنکس

این آراو سے متعلق مقدمے کی سماعت ملتوی


چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مقدمے کی سماعت کررہے ہیں (فائل فوٹو)

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مقدمے کی سماعت کررہے ہیں (فائل فوٹو)

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے حکومت کی درخواست قبول کرتے ہوئے این آراو کی منسوخی سے متعلق مقدمے کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ پیر کے روز جب مقدمے کی سماعت کاآغاز ہوا تو اٹارنی جنرل انوار الحق نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ وزیرا عظم یوسف گیلانی سیلاب کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروفیات کے باعث قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کے بارے میں سمری کا جائزہ نہیں لے سکے اس لیے حکومت کو مہلت دی جائے۔

13 اکتوبر کو ہی این آراو کے عدالتی فیصلے سے متعلق وفاق کی طرف سے نظر ثانی کی درخواست کی سماعت بھی کی جائے گی۔ عدالتی کارروائی کے بعد اٹارنی جنرل انوار الحق نے میڈ یا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ عدالت کے شکرگزار ہیں کہ اُس نے وفاق کی نظرثانی کی درخواست قبول کر لی ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ این آراو کی منسوخی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمدجاری رہے گا ۔

عدالت عظمیٰ نے گذشتہ جمعہ کے روز اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ این آر او پر عمل درآمد کے بارے میں حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے عدالت کو پیر تک آگاہ کریں ۔

صدر زرداری، وزیراعظم گیلانی اور جنرل کیانی کی ملاقات

صدر زرداری، وزیراعظم گیلانی اور جنرل کیانی کی ملاقات

دریں اثناء صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم گیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان پیر کو ایوان صدر میں ایک اہم ملاقات بھی ہوئی۔

سیاسی اور فوجی قیاد ت کے مابین یہ ملاقات ایک ایسے روز ہوئی جب عدالت عظمیٰ میں آئینی درخواستوں کی سماعت پر عدلیہ کی طرف سے حکومت مخالف فیصلہ سنائے جانے اور وزیراعظم کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق بات چیت میں تینوں رہنماؤں نے پاکستان میں جمہوریت کے دفاع اور تمام معاملات کو آئین کے تحت حل کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔

اس سے قبل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک الگ موقع پر میڈیا سے گفتگو میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔

یہ امرقابل ذکر ہے کہ این آر او کی منسوخی کے عدالتی فیصلے کے مطابق اس متنازع قانون سے مستفید ہونے والے آٹھ ہزار سے زائد افراد کے خلاف ختم کیے جانے والے مقدمات کی بحالی اور سوئس عدالتوں میں صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے حکومت کی طرف سے خط لکھنا شامل ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت بالخصوص وزیراعظم گیلانی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ صدر زرداری کے بغیر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہے اور وہ ملک کے سپریم کمانڈر ہیں اور ایسی صورت میں اُن کے خلاف بیرون ملک مقدمات کیسے کھولے جاسکتے ہیں ۔ حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ آئین پاکستان کے تحت صدر کو کسی بھی طرح کی عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG