رسائی کے لنکس

امریکہ میں قائم بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ جج صاحبان کو تنقید سے کوئی خاص استثنا حاصل نہیں۔

نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے پاکستان کی عدلیہ پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی ذرائع ابلاغ کو عدلیہ سے متعلق تنقید سے روکنے کے لیے کی جانے والی اپنی کوششوں سے اجتناب کرے۔

ایچ آر ڈبلیو نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد اور لاہور میں اعلیٰ عدالتوں نے گزشتہ چند ماہ میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے پیمرا کو ہدایت کی تھی کہ وہ ’’عدلیہ کے خلاف‘‘ پروگراموں کے نشر نا ہونے کو یقینی بنائے۔

تنظیم کے ایشیا کے ڈایریکٹر بریڈ ایڈمز نے ججوں کی ان کوششوں کو’’اظہار رائے پر پابندیاں‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو کوئی ایسی ’’مخصوص رعایت‘‘ حاصل نہیں کہ ان پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔

لاہور ہائی کورٹ نے پیمرا کو عدلیہ سے متعلق تنقیدی پروگراموں کے نشر ہونے کے خلاف حکم امتناعی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہدایت دے دی ہے۔ مذکورہ حکم کی میعاد جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔

اس ہدایت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی گزشتہ ماہ مبینہ طور پر عدلیہ مخالف ٹی وی پروگراموں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

پیمرا نے رواں ماہ ایک بیان میں کہا کہ وہ آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہے مگر کہیں بھی ’’بے لگام آزادی‘‘ کے ذریعے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

علاوہ ازیں ادارے نے کہا کہ انھوں نے تمام ٹی وی چینلز پر زور دیا ہے کہ وہ ازخود ’’قومی مفادات‘‘ کے لیے اقدامات اٹھائے۔

ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ پاکستانی ججوں نے حکومت کا احتساب کرنے کی اہلیت دکھائی ہے مگر خود پر کی جانے والی نکتہ چینی پر اپنے سخت ردعمل سے ان کے بقول ججز اپنی ساکھ گنوا رہے ہیں۔

ان کے مطابق صحافیوں کو غیر سرکاری طور پر عدالتی حکام نے بتایا ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید یا غیر پسندیدہ تبصرے کی صورت میں توہین عدالت کے الزامات کا سامنا کریں گے۔
XS
SM
MD
LG