رسائی کے لنکس

پاکستان: اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کی سفارش


چیف جسٹس کی سربراہی میں اجلاس

چیف جسٹس کی سربراہی میں اجلاس

کمیشن کی طرف سے تجویز کردہ ایڈیشنل ججوں میں سے سات سندھ ہائی کورٹ اور تین بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے ہیں۔

پاکستان کے جوڈیشل کمیشن نے ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعداد میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کو 10 ایڈیشنل ججوں کی تقرری کی سفارشات بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہفتے کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ہونے والے کے اجلاس میں اس متعلق ماتحت عدالتوں کے ججوں اور وکلاء کے ناموں پر غور کیا گیا۔

کمیشن کی طرف سے تجویز کردہ ایڈیشنل ججوں میں سے سات سندھ ہائی کورٹ اور تین بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے ہیں۔

سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ججوں کی تقرری میں تاخیر کی وجہ سے اس وقت ملک کی تمام اعلیٰ عدالتوں کو گزشتہ چند سالوں سے ججوں کی کمی کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’طویل مشاورتی عمل اور سیاسی رسہ کشی‘‘ تقرری کے عمل میں تاخیر کا باعث ہیں۔

’’جج کی تقرری کے لیے عمر کی حد کم از کم 40 سال سے 45 سال کردی گئی۔ اب اس عمر میں کئی نئے اور اچھے وکیل اپنا کیرئیر کافی حد تک بنا لیتے ہیں۔ اس لیے وہ اس طرف نہیں آنا چاہتے اور یہی وجہ ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ اعلیٰ معیار کے وکلاء بینچ میں شامل نہیں ہوتے۔‘‘

احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں میں زیر التواء مقدموں میں اضافے کی ایک وجہ ججوں کی کم تعداد بھی ہے۔ مقدموں کو جلد نمٹانے کے لیے 2009 میں قومی جوڈیشل پالیسی بنائی گئی تھی۔ جس سے حکام کے بقول زیر التواء مقدموں کی تعداد میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے۔
تاہم سابق وزیر قانون بظاہر اس سے مطمئن نہیں ان کا کہنا تھا۔

’’وکیل اپنی فیس لے لیتے ہیں اور ججز بھی اپنی تنخواہیں بڑھا لیتے ہیں، گاڑیاں لے لیتے ہیں مگر سائل کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ عدلیہ بھی ریاست کا ادارہ ہے اگر وہاں اس کی داد رسی نہیں ہوتی تو پھر وہ غیر ریاستی قوتوں کی طرف جاتا ہے اور ریاستی نظام کو تسلیم نہیں کرتا۔‘‘

بعض قانونی ماہرین کی رائے میں ججوں کو عدلیہ کے انتظامی امور سے الگ کرنے سے بھی اعلیٰ عدالتوں کی کارکردگی کو بہت حد تک بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG