رسائی کے لنکس

پی سی او ججوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ


پی سی او ججوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ

پی سی او ججوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ

سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 9 ججوں کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے اُن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان جج صاحبان پر فرد جرم 22 فروری کو عائد کی جائے گی۔

بدھ کو جسٹس محمود اخترشاہد صدیقی کی سربراہی میں قائم بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان ججوں نے عدالت عظمیٰ کے واضح فیصلے کے باوجود
ملک میں تین نومبر2007 ء کو لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامے ”پی سی او“کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔ عدالت کے فیصلے میںآ ئین کی دفعہ 204 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی بھی جج کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

2007 ء میں ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل عدالت عظمیٰ کے سات رکنی بنچ نے اپنے ایک فیصلے میں سپریم کورٹ اورہائی کورٹس کے ججوں سے کہا تھا کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کی صورت میں اپنے عہدوں کا دوبارہ حلف نہ اُٹھائیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ تین نومبر 2007ء کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے فوج اور دیگر اداروں نے جو اقدامات کیے تھے وہ عدالت عظمیٰ کے سات رکنی بنچ کے فیصلے سے پہلے کیے گئے تھے لہذا ان افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے الگ درخواست دائر کی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے لارجر بنچ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں لگائی جانے والی ایمرجنسی اور اس کے تحت کیے جانے والے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور پی سی او کے تحت سپریم کورٹ اور چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں حلف اُٹھانے والے ساٹھ سے زائد ججوں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے۔ لیکن بعد میں ان میں سے اکثر ججوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی جب کہ کچھ ججوں نے عدالت میں اپنے دفاع کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن بدھ کو عدالت نے فیصلہ اُن کے خلاف سنایا۔

اعلیٰ عدلیہ کے جن ججوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی ان میں عدالت عظمیٰ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے علاوہ سپریم کورٹ کے غیر فعال جج زاہد حسین بھی شامل ہیں۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007ء کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے کئی ججوں کو برطرف کر دیا تھا۔ جنہیں وکلا ء، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی ملک گیر تحریک کے بعد 16 مارچ 2009ء کو بحال کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے پریس کانفرنس میں اس فیصلے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کے عدالت عظمیٰ اپنے ہی ججوں پر فرد جرم عائد کر کے اُن کے خلاف کارروائی کرے۔

XS
SM
MD
LG